حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 5
7 CO عبرانی زبان سیکھنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ نے اس عظیم مقصد کو پورا کرنے کے لئے ( دعوت الی اللہ ) کے خطوط کا ایک سلسلہ شروع کر دیا۔یہ سلسلہ خطوط صرف حضرت مفتی صاحب کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں تعلیم ہندوستان تک محدود نہیں تھا بلکہ برطانیہ نے بھی اس چشمہ سے حصہ لیا اور امریکہ اور روس بھی اس سے فیض یاب ہوئے۔الاسلام ہائی سکول کی ہیڈ ماسٹری اور اخبار ” البدر کی ایڈیٹری کے علاوہ اور بھی بہت ساری خدمات جلیلہ کی توفیق ملی۔ان عظیم الشان خدمات میں سے آپ کو ایک خدمت یہ کرنے کا موقع ملا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو ارشاد سفر میں خدمت فرمایا کہ عبرانی سیکھیں۔ان دنوں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنی معرکة الآراء حضرت مفتی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفروں میں حضور کی کتاب من الرحمان لکھ رہے تھے۔جس میں آپ ثابت کر رہے تھے کہ عربی زبان خدمت کے متعلق فرماتے ہیں: اُمُّ الا لسنه یعنی تمام زبانوں کی ماں ہے۔اس سلسلے میں حضور علیہ السلام کو عبرانی زبان کی بھی ضرورت محسوس ہوئی تا اہل دنیا پر واضح کیا جاسکے کہ عبرانی زبان بھی عربی سے جس سفر میں حضرت اماں جان) حضور کے ساتھ نہیں ہوتی تھیں۔اُس میں میں حضور کے قیام گاہ میں حضور کے کمرے کے اندر ہی نکلی ہوئی ہے۔حضرت مفتی صاحب کو حضور کا یہ حکم سن کر بہت خوشی ہوئی کہ خدا نے ایک چھوٹی سی چار پائی لے کر سورہتا تھا۔تا کہ اگر حضور کو رات کے خدمت کا موقع دیا ہے۔ان دنوں آپ لاہور میں ملازم تھے چنانچہ آپ نے لاہور میں عبرانی سیکھی اور عبرانی الفاظ حضور کی خدمت میں پیش کئے جن سے حضور علیہ السلام نے یہ ثابت کیا کہ یہ زبان بھی عربی سے نکلی ہوئی ہے۔دعوت الی اللہ کے خطوط وقت کوئی صورت پیش آئے۔تو میں خدمت کرسکوں۔چنانچہ اس زمانہ میں چونکہ مجھے ہوشیار اور فکر مند ہو کر سونا پڑتا تھا تا کہ ایسا نہ ہو کہ حضرت صاحب مجھے کوئی آواز دیں اور میں جاگنے میں دیر کروں۔اس لئے اس وقت سے میری نیند بہت ہلکی ہو گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر کبھی مجھے آواز دیتے تھے اور میری آنکھ نہ کھلتی تھی تو حضور آہستہ سے مسیح دوراں کا جو پیغام آپ نے سنا اور مھدی زماں کے جس نور سے آپ منور اٹھ کر میری چار پائی پر بیٹھ جاتے تھے۔اور میرے بدن پر اپنا دست ہوئے آپ کی شدید خواہش تھی کہ یہ نور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بہت جلد آپنچ جائے مبارک رکھ دیتے تھے۔جس سے میں جاگ پڑتا تھا۔اور سب سے پہلے اور تمام مخلوق اس عظیم فرستاد و پر ایمان لا کر اپنے حقیقی خدا تک پہنچ سکے۔حضور وقت دریافت فرماتے تھے۔اور حضور کو جب الہام ہوتا تھا۔