حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 4
5 4 دوسرے یا تیسرے دن آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آپ اس سکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے اور مارچ 1905 ء تک اس ذمہ داری کر لی اور آخرین کے خوش نصیب گروہ میں شامل ہو گئے۔گئے۔آپ جموں میں ہائی سکول میں انگریزی کے استاد تھے۔کو نبھاتے رہے۔قادیان میں آپ 1890ء میں بیعت کر کے اپنی ملازمت پر جموں واپس چلے بطور ایڈیٹر ” البدر تقرری مارچ 1905ء میں اخبارالبدر کے ایڈیٹر حضرت منشی محمد افضل خاں صاحبہ اس کے بعد آپ جب تک جموں رہے آپ دیوانہ وار ہر سال موسم گرما کی وفات پاگئے۔اور حضرت مفتی صاحب کی خدمات تعلیم الاسلام ہائی سکول کی رخصتوں میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے اور حضور کی صحبت میں اپنی جھولی کو برکات اور روحانی نعمتوں سے مالا مال کرتے رہے۔بعض دفعہ آپ سال میں دو دو دفعہ بھی جموں سے قادیان آتے رہے۔1895ء میں ہیڈ ماسٹری سے اخبار ”البدر کی ایڈیٹری کی طرف منتقل ہو گئیں۔آپ کے البدر کے ایڈیٹر بنے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا: میں بڑی خوشی سے یہ چند سطریں تحریر کرتا ہوں۔کہ اگر چہ منشی آپ نے ایف اے کا امتحان پرائیویٹ طور پر جموں میں ہی پاس کیا تھا۔اسی سال محمد افضل مرحوم ایڈیٹر اخبار البدر قضائے الہی سے فوت ہو گئے ہیں۔مگر آپ اگست یا ستمبر میں جموں کی ملازمت ترک کر کے اسلامیہ سکول لاہور میں خدا تعالی کے شکر اور فضل سے ان کا نعم البدل اخبار کو ہاتھ آگیا ہے۔یعنی ہمارے سلسلہ کے ایک برگزیدہ رکن، جوان، صالح اور ہر یک طور سے لائق ، جن کی خوبیوں کے بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔یعنی مفتی محمد صادق صاحب بھیروی قائم مقام منشی محمد افضل صاحب مرحوم ہو گئے ہیں۔آگئے۔چھ ماہ آپ یہاں ملازم رہے۔پھر آپ لاہور میں ہی اکا ؤنٹنٹ جنرل پنجاب کے دفتر میں کلرک ہو گئے اور قادیان ہجرت تک جو 1901ء میں ہوئی آپ اسی دفتر میں ملازم رہے۔دور مسیح موعود علیہ السلام میں آپ کی خدمات میری دانست میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم سے اس اخبار کی قسمت حضرت مفتی محمد صادق صاحب جنوری 1901 ء میں حضرت اقدس مسیح موعود جاگ اٹھی ہے کہ اس کو ایسا لائق اور صالح ایڈیٹر ہاتھ آیا۔خدا تعالیٰ یہ علیہ السلام کی منشاء کے مطابق ہجرت کر کے قادیان آگئے اور حضور علیہ السلام کے کام ان کے لئے مبارک کرے اور ان کے کاروبار میں برکت ڈالے۔حکم سے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بطور سیکنڈ ہیڈ ماسٹر کام کرنے لگ گئے۔بعد آمین ثم آمین (ذکر حبیب صفحہ 332)