حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 91 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 91

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 91 جائیں۔میں گرمی کی دھوپ کا خیال کر کے حضور کو سائے والی طرف بیٹھا تا اور خود دھوپ والی طرف بیٹھ جاتا۔میں دل میں خیال کرتا تھا کہ شاید حضور نے اس بات کو محسوس نہیں کیا۔مگر ایک روز یہ بات بھی کھل گئی۔ایک دفعہ ہم گورداسپور گئے اور سخت گرمی کے وقت واپس آنا تھا۔کیونکہ حضور علیہ السلام کے گھر میں کچھ علالت تھی۔وہاں ٹھہر نہ سکتے تھے۔گیارہ ، بارہ بجے کا وقت تھا۔دھوپ سخت پڑ رہی تھی۔خدا نے ایسا فضل کیا کہ اسی وقت ایک چھوٹی سی بدلی ہمارے یکہ کے اوپر آگئی اور قادیان تک وہ ہمارے ساتھ ساتھ آئی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ دیکھو خدا نے کتنا بڑا فضل کیا کہ اتنی بڑی سخت گرمی میں اس نے سایہ کرنے کے لئے بادل بھیج دیا۔فرمایا ایک دفعہ پہلے بھی ہمارے ساتھ ایسا واقعہ گزرا ہے۔امرتسر سے بٹالہ کو میں نے آنا تھا۔ایک ہندو بھی میرے ساتھ سوار ہوا۔آپ تو اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ مجھے سایہ والی طرف بٹھاتے ہیں۔مگر اس ہندو نے مجھے سایہ والی طرف سے اُٹھا دیا اور آپ بیٹھ گیا۔خدا نے ایک بادل بھیج دیا۔جس نے بٹالہ تک ساتھ دیا اور ٹھنڈی ہوا اس طرف سے آتی تھی ، جدھر میں بیٹھا ہوا تھا۔آخر وہ ہندو کہنے لگا کہ رام رام مہاراج آپ کو تو خدا نے بہت اچھی جگہ دے دی۔“ نسخه تجویز فرمایا دسمبر 1903ء کا ذکر ہے ایک دن نماز مغرب ادا کر کے حضور تشریف لے جانے لگے تو مفتی صاحب نے عرض کی کہ سر درد اور متلی وغیرہ کی شکایت ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا: آج شب کو کھانا نہ کھانا اور کل روزہ نہ رکھنا۔سکنجبین پی کر اس کی قے کریں۔پھر حضرت مفتی صاحب سے مکان کی نسبت دریافت فرمایا اور فرمایا کہ اس کے مالکوں کو کہو کہ روشن دان نکال دیں اور آج کل گھر میں خوب صفائی رکھنی چاہیے اور کپڑوں کو بھی بالکل صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔آج کل دن بہت سخت ہیں اور ہوا زہریلی ہے اور صفائی کا خیال رکھنا تو سنت ہے قرآن شریف میں بھی لکھا ہے۔