حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 82 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 82

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 82 متعصب اور انصاف پسند ہیں۔لیکچر کے بعد اُن سے ملے اور پوچھا: ” پروفیسر تم دنیا میں گھومے،کیا تم نے کبھی کوئی خدا کا نبی بھی دیکھا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے دعوی مسیحیت و مہدویت اور اس کے دلائل سے اس کو خبر کی۔ان باتوں کو سن کر وہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ میں ساری دنیا کے گرد گھوما ہوں۔مگر خدا کا نبی کوئی نہیں دیکھا۔اور میں تو ایسے ہی آدمی کی تلاش میں ہوں اور حضرت کی ملاقات کا از حد شوق ظاہر کیا۔مفتی صاحب نے مکان پر حضرت صاحب سے ذکر کیا۔حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا: د مفتی صاحب تو انگریزوں کو ہی شکار کرتے رہتے ہیں، (ذکر حبیب ص409) 12 مئی 1908ء کو پروفیسر صاحب کو شرف باریابی نصیب ہوا۔پروفیسر صاحب نے کئی سوالات کئے مثلاً خدا کی مخلوق بے شمار اور غیر محدود ہے تو اس کے فضل کو کیوں صرف اس حصہ زمین یا کسی مذہب وملت میں محدود رکھا جائے؟ گناہ کیا چیز ہے؟ شیطان کسے کہتے ہیں؟ آئندہ زندگی کس طرح ہوگی وغیرہ وغیرہ ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں جن کا سوال تھا کہ کیا وفات یافتگان سے رابطہ کر کے صحیح حالات دریافت کئے جاسکتے ہیں؟ حضرت اقدس علیہ السلام کے جوابات پر مہمان بہت متاثر ہوئے اور حضور کا شکریہ ادا کیا۔یہاں تک کہا کہ مجھے ہر طرح سے کامل اطمینان ہو گیا ہے اور یہ اطمینان دلانا خدا کے نبی کے سوا کسی کے بس میں نہیں۔مسٹر ریگ 18 مئی کو دوبارہ حاضر ہوئے اور علوم جدیدہ کے ماہرین کو جن باتوں سے خلش ہوتی ہے سب پوچھ ڈالیں۔وہ وجد میں آ کے کہنے لگے میں تو خیال کرتا تھا کہ سائنس اور مذہب میں بڑا تضاد ہے آپ نے تو تضاد بالکل اُٹھا دیا ہے۔حضور نے فرمایا: یہی تو ہمارا کام ہے اور یہی تو ہم ثابت کر رہے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بالکل اختلاف نہیں بلکہ مذہب بالکل سائنس کے مطابق ہے اور سائنس خواہ کتنا عروج