حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 73 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 73

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 73 تحریر ہے مفتی محمد صادق حسب الارشاد حضرت اقدس علیہ السلام ایک عیسائی کی کتاب سے گناہ کی حقیقت سناتے رہے اس کتاب میں ایک جگہ گناہ کی تعریف دیکھی گئی تھی کہ جو امر کانشنس یا شریعت کے خلاف ہو وہ گناہ ہے۔“ اس طرح کئی مواقع پر مضامین ، تراجم، کتب، اخبار سنانے کا ذکر ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا: اس لئے سنتے ہیں کہ کہیں غیرت آجاتی ہے اور بعض اوقات کوئی عجیب تحریک ( بدر 7 نومبر 1902ء) ہوتی ہے۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک مضمون تحریر فرما رہے تھے جس میں پطرس کی عمر پر بحث جاری تھی۔حضرت مفتی صاحب کے ذہن پر اس مسئلے کا حل مسلط تھا۔اکتو بر 1902ء میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ( خلیفتہ المسیح الثانی کی بارات ساتھ رڑ کی گئے تو وہاں پادریوں سے پطرس کی عمر کے بارے میں تحقیق کا موقع ملا۔جس سے ثابت ہوتا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب دئے جانے کے وقت پطرس کی عمر تیس سے چالیس سال کے درمیان تھی۔پطرس کا ایک نوٹ ملا تھا جس میں اُس نے تحریر کا وقت مسیح کی وفات کے تین سال بعد لکھا تھا۔اس طرح ثابت ہو گیا کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد 47 سال زندہ رہا یہ ایک ثبوت تھا وفات مسیح کا جس پر تحقیقی مواد ملنے سے حضرت اقدس علیہ السلام بہت خوش ہوئے۔(خلاصہ از ملفوظات جلد دوم ص 312) 1902ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پیشگوئی ذوالقرنین کے پورا ہونے کی گفتگو فرما رہے تھے۔آپ نے فرمایا: ذوالقرنین اس لئے نام رکھا کہ وہ دوصدیوں کو پائے گا۔اب جس زمانہ میں خدا نے مجھے بھیجا ہے سب صدیوں کو جمع کر دیا ہے۔کیا یہ انسانی طاقت میں ہے کہ اس طرح پر دوصدیوں کا حساب ہو جاوے۔ہندوؤں کی صدی بھی پائی اور عیسائیوں کی بھی۔مفتی