حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 70
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ رہے ہیں تو میرے دل میں جوش اُٹھا کہ میں بھی ان کی امداد کروں جو خود کمزور ہو وہ کسی کی کیا مدد کرے گا۔مگر ایسے پر جوش اور پر طاقت با ہمت عالی حوصلہ عالی دماغ اصحاب کے کارناموں کو اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتا دیکھ کر نہ رہ سکا کہ نچلا بیٹھ رہوں میں بھی لگا کچھ ہاتھ ہلانے اور کچھ آوازیں دینے۔بھلا اس چھوٹے سے ہاتھ اور باریک سی آواز نے کیا کرنا تھا مگر خدا نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے جو دنیا بھر کو تبلیغ پہنچانی تھی تو اس کے واسطے سامان بھی ایسے ہی مہیا کر دئے۔پس میرے ہاتھ اور آواز کو ڈاک نے ایسی مدددی کہ میں گھر بیٹھے بیٹھے انگلستان، امریکہ اور جاپان تک جانے لگا۔اور تو کیا کر سکتا تھا پھر دو باتوں کی آہستہ آہستہ عادت سمجھو، قوت سمجھو، نشہ سمجھو کچھ سمجھو دو کام آہستہ آہستہ کرنے لگا ایک تو یہ کہ جہاں کہیں کوئی نیا فرقہ دیکھا،گمراہی کا کوئی خوفناک گڑھا پایا ، ضلالت کا کوئی ہولناک کنواں معلوم کیا اُن کی خبر خدا کے مسیح کو دی تا کہ وہ اُن کی دستگیری کے لئے توجہ کریں اور دوسرا یہ کہ جو ملاکسی نہ کسی بہانے اُس کے کان میں کچھ اسلام کے بانی علیہ السلام اور اسلام کے موجودہ امام کی خبر ڈال دی۔کسی نے گالی دی ،کسی نے برا منایا، کوئی ہنس کر خاموش رہا، کسی نے خشک شکریہ میں ٹالا۔کوئی تھوڑی دور ساتھ ہولیا اور پرسانِ حال رہا پر میں اپنا کام کئے گیا۔یہاں تک کہ بعض رشید اور سعید ایسے نکلے کہ جنہوں نے اس آواز کو قبول ہی کر لیا ( بدر 24 نومبر 1904ء) اس کام کو مفید دیکھ کر بعض احباب نے مالی معاونت کی پیشکش کی تو آپ نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں اجازت اور دُعا کے لئے عریضہ تحریر کیا آپ نے جواباً رقم فرمایا: السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ میرے نزدیک جہاں تک کچھ دقت اور حرج واقع نہ ہو، اس کام میں کچھ مضائقہ 70