حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 272 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 272

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 272 حالات میں شادی کرنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔تو خود ہی بتا کہ کہاں شادی کروں۔یہ 1956ء کی بات ہے، مجھے دُعا کرتے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ ایک دن ایک ٹیلی گرام ملا، یہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی طرف سے تھا۔لکھا تھا: "Come for marriage" شادی کے لئے آؤ۔یہ تو مجھے یقین تھا کہ میری دُعاؤں کا جواب ہے لیکن بظاہر یہ صورت کس طرح بنی غالباً اہلیہ حضرت مفتی صاحب جن کا تعلق مالا بار سے تھا، میرے والدین کو جانتی تھیں۔انہوں نے مفتی صاحب سے ذکر کیا ہوگا۔اس ٹیلی گرام کے بعد ایک دو مبشر خواب آئے جن سے مجھے یقین ہوا کہ یہ رشتہ میرے لئے اچھا ہو گا۔اب دوسرا فکر سوار ہو گیا۔میرے پاس شادی کے لئے کوئی روپیہ پیسہ نہیں۔سو روپئے بھی میرے پاس نہیں تھے۔رہائش Navy کی طرف سے مل جاتی مگر باقی اخراجات کا کیا کروں گا۔باپ سر پہ نہیں۔والدہ صاحبہ کو خرچ میں بھیجتا تھا۔مجھے پتہ تھاوہاں کچھ جمع جوڑا نہیں ہو گا۔اس بے بسی میں اللہ تعالیٰ بہت یاد آتا۔جن دنیاوی رشتوں سے آس نہ ہونے کی وجہ سے میں بہت پریشان تھا۔اللہ تعالیٰ کی ذات اُن سب سے بہت زیادہ طاقتور ہے۔میں اپنی بے بسی کو اللہ تعالیٰ کے آگے رکھتا تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے۔دو چار دن ہی گزرے تھے کہ کمانڈر نصیر الدین احمد ( جو کہ پی این ایس شفا کے Executive Officer تھے ) نے بلا یا اور کہا کہ امریکہ جانے کے لئے تیار ہو جاؤ، فارمیسی کی ٹریننگ کے لئے ایک آدمی کو بھیجنا تھا۔22 لوگوں کے انٹرویو میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں منتخب ہو گیا۔میرے انتخاب کی وجہ شاید یہ ہوئی کہ میں یہی مضمون پڑھاتا تھا۔میں نے پتہ کیا کہ کیا کچھ اضافی الاؤنس بھی ملے گا مگر اُس وقت یہی معلوم ہوا کہ صرف تنخواہ ہوگی۔جس سے شادی کے اخراجات تو نہیں نکلیں گے مگر میرا مولا کریم میرے لئے سامان کر رہا تھا۔جانے سے دو ہفتے پہلے معلوم ہوا کہ ساڑھے چار ڈالر روزانہ الاؤنس ملے گا۔اب کچھ تسلی ہوئی حضرت مفتی صاحب کو ٹیلی گرام سے جواب دیا کہ ایک سال کے لئے