حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 267 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 267

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 267 راستہ بند ہے ایک بڑا بحر ذخار چل رہا ہے۔میں نے دیکھا کہ واقع میں کوئی دریا نہیں بلکہ ایک بڑا سمندر ہے۔اور پیچیدہ ہو ہو کر چلتا ہے جیسے سانپ چلا کرتا ہے ہم واپس چلے آئے کہ ابھی راستہ نہیں اور یہ راہ بڑا خوفناک ہے۔“ ( البدر جلد 1 نمبر 10 مورخہ 2 جنوری 1903 ص 77) یہ الہام بھی بڑا صاف اور واضح ہے اور حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔الحمد للہ۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا 1944ء میں گنگا رام ہسپتال لاہور میں ایک خطر ناک آپریشن کرنل بڑوچہ نے کیا تھا۔اس وقت حضرت مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر زندگی بخشی۔ایک وقت کرنل بڑ وچہ بالکل مایوس ہو چکے تھے۔حضرت صاحب کو متعدد دُعا کے لئے تاریں دی گئیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو معجزانہ طور پر زندگی عطا فرمائی۔حتی کہ ربوہ آباد ہوا اور یہاں انہوں نے سکونت اختیار کی پس حضرت مفتی صاحب کی زندگی اور موت دونوں اس خدائی الہام کے پورا ہونے کے نشان ہیں۔“ حضرت مفتی صاحب کے اوصاف حمیدہ کا ایک نمونہ از مولوی محمد اسمعیل صاحب دیا لگڑھی خاکسار کی نسبتی ہمشیرہ عزیزہ رضیہ سلطانہ سلمہا اللہ نے ایک واقعہ سنایا جو حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی پاکیزہ سیرت اور بلند خلق کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔یہ واقعہ آج سے تیرہ چودہ سال قبل کا ہے۔عزیزہ رضیہ سلطانہ جس کی عمر اس وقت 10,9 سال کی تھی۔بازار سے سودا خرید کر اپنے مکان واقع محلہ دار الفضل قادیان کی طرف آرہی تھی کہ ریتی چھلہ کے پاس حضرت مفتی صاحب ملے۔آپ نے جب دیکھا کہ ایک بچی سر پر سات آٹھ سیر آٹا اُٹھائے اور ہاتھ میں ڈیڑھ سیر سبزی وغیرہ کا تھیلا پکڑے جارہی ہے تو آپ نے پاس آکر پہلے السلام علیکم کہا اور پھر بڑی شفقت اور اپنے مخصوص میٹھے انداز میں فرمایا۔بیٹی تم چھوٹی ہو اور اتنا بوجھ اُٹھائے لئے جارہی ہو۔لاؤ یہ بوجھ بانٹ لیں۔عزیزہ رضیہ نے آپ کے احترام کی وجہ سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہیں مفتی صاحب آپ تکلیف