حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 266
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مفتی محمد صادق اور قیام ربوہ وو از مکرم ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب (ربوہ) 266 سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنا ایک خواب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فجر کے وقت فرمایا کہ ہم نے ایک خواب دیکھا ہے کہ ایک سڑک ہے جس پر کوئی کوئی درخت ہے ایک مقام داره ( فقراء کے تکیہ وغیرہ ) کی طرح ہے۔میں وہاں پہنچا ہوں مفتی محمد صادق میرے ساتھ تھے۔دو چار اور دوست بھی ہمراہ تھے۔لیکن ان کے نام اور وہ حصہ خواب کا بھول گیا ہوں۔آخر سڑک کے کنارے آیا تو ایک مکان دیکھا جو کہ میرا یہ ( سکونتی ) مقام معلوم ہوتا ہے۔لیکن چاروں طرف پھرتا ہوں اس کا دروازہ نہیں ملتا اور جہاں دروازہ تھا وہاں ایک پختہ عمارت کی دیوار معلوم ہوتی ہے۔فجو (فضل النساء) سفید کپڑے پہنے بیٹھی ہے اور اس کے ساتھ فجا(فضل ) بھی ہے لیکن فجے کی ایک انگلی پر ایک خفیف سا زخم ہے۔جس سے وہ روتا ہے۔(فضل النساء دار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک خادمہ تھی جس نے حضرت مصلح الموعود ایدہ اللہ کو دودھ بھی پلایا تھا) فجے نے آکر ایک ستون جیسی دیوار کو صرف ہاتھ ہی لگایا ہے کہ وہاں ایک دروازہ بڑی پھاٹک کی طرح ایسے کھل گیا ہے جیسے ایک پینچ دبانے سے بعض کل دار دروازے کھل جاتے ہیں۔جب اس دروازہ کے اندر داخل ہوا تو کسی نے کہا کہ یہ دروازہ فضل الرحمن نے کھول دیا ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۶ ۱۷ مورخہ ۱۲۴ پریل دیکم مئی ۱۹۰۴ء ص ۶) اس الہام الہی میں ربوہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ربوہ کے قیام کے وقت زندہ ہوں گے اور ربوہ میں سکونت اختیار کریں گے۔ربوہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک اور الہام بھی ہوا: میں کسی اور جگہ ہوں اور قادیان کی طرف آنا چاہتا ہوں۔ایک دو آدمی ساتھ ہیں۔کسی نے کہا