حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 263
263 حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ 1922ء میں امریکہ میں ایک شادی کی جس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ایک شادی ہالینڈ میں ہوئی جس سے ایک بیٹا بھی ہوا مگر دونوں زندہ نہ رہ سکے۔ایک شادی انگلینڈ میں کی تھی جس سے اولاد بھی ہوئی مگر جماعت سے تعلق نہیں ہے۔سب سے آخر میں 68 سال کی عمر میں مالا بار کی ایک خاتون محترمہ رقیہ بانو صاحبہ سے شادی کی۔ان سے دو بچے ہوئے۔محترمہ رضیہ صادق صاحبہ جو اپنے والد صاحب حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی وفات کے وقت ستر دو سال کی تھیں اور ایک بیٹا مفتی احمد صادق صاحب جو صرف ساڑھے چھ سال کے تھے۔رضیہ مومن صاحبہ نے اپنے والد محترم کی صفات سے وافر حصہ ورثہ میں پایا تھا۔ایک مثالی خاتون تھیں جن کی زندگی کا محور حصول رضائے الہی تھا۔سادہ بے نفس خاتون تھیں لجنہ کراچی اُن کی خدمات کو کبھی فراموش نہ کر سکے گی۔حضرت مفتی صاحب کے ایمان کا ارفع مقام تحریر : حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایمان دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ ایمان جس کی جڑ دماغ میں ہوتی ہے اور جس میں یقین کی بنیاد دلائل پر رکھی جاتی ہے اور ایک وہ ایمان ہے جس کی جڑ دل میں ہوتی ہے اور اس میں یقین کی بنیاد عشق اور محبت پر رکھی جاتی ہے یہ ایمان اول الذکر ایمان سے افضل ہے۔لیکن سب سے افضل وہ ایمان ہے جس کی جڑیں دل اور دماغ دونوں میں ہوں تا کہ دلائل کا رنگ بھی نمایاں ہوا اور عشق و محبت کا رنگ بھی غالب رہے۔حضرت مفتی صاحب کو ایمان کا یہی ارفع مقام حاصل تھا۔اس لئے آپ زندگی بھر جہاد کی صف اول میں رہ کر جہاں دلائل کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کی نمایاں خدمات سرانجام دیتے رہے وہاں آپ نے عشق اور محبت کی گرمی کے ذریعہ بھی لوگوں کو مامور زمانہ کی مقناطیسی کشش سے متاثر کیا (الفضل 15 جنوری 1957ء)