حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 174
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ پادری :۔مجھے لوگ اولڈ جو کہتے ہیں۔صادق: - گڈ نائٹ مسٹر اولڈ بجو۔174 سامعین نے شور مچایا کہ پادری صاحب کو جواب نہیں آئے۔میں تو چلا آیا معلوم نہیں پھر اس غریب کے ساتھ کیسی گزری۔(الفضل 18 اگست 1917 ء ص 8) اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب کو حاضر دماغی سے مدلل گفتگو کرنے کا عجیب ملکہ عطا فرمایا تھا۔آپ کی دعوت الی اللہ کے کئی واقعات ہیں جن میں آپ دوسروں کو ان کی باتوں میں سے ہی سوال کر کے لاجواب کر دیتے تھے۔مثلاً ایک پادری نے کہا آدم وحوا کے گنہگار ہونے کی وجہ سے سارا جہان گنہگار ہو گیا۔اس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گنہگار ہوئے۔حضرت مفتی صاحب نے پوچھا کہ آدم و حوا میں سے آپ کے نزدیک کون زیادہ گنہ گار تھا اُس نے جواب دیا حوا آپ نے جوابا کہا کہ اگر عورت کو زیادہ گنہ گار مانتے ہیں تو صرف عورت سے پیدا ہونے والا زیادہ گنہگار ہوگا یا عورت و مرد دونوں سے۔۔۔۔۔۔پادری صاحب کو کوئی جواب نہ بن پڑا۔ایک مجمع میں وعظ کرنے والے پادری صاحب سے آپ نے کہا کہ آپ کا مذہب عیسائیت امن کی عمدہ تعلیم دیتا ہے۔جرمن اور آسٹرین بھی عیسائیت پر عمل پیرا ہیں تو وہ جنگیں کیوں کر رہے ہیں؟ پادری صاحب نے کہا کہ وہ اس پر عامل نہیں ہیں۔آپ نے فرمایا 1900 سال سے اس تعلیم پر کون عمل کر رہا ہے۔کیا اس تعلیم پر عمل ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے پادری صاحب کے پاس جواب نہیں تھا۔خلاصه از الفضل 28 اگست 1917 میں 10 بات سے بات نکال کر اپنے مطلب کی بات پر آجانا بھی آپ کا خاص طریق تھا۔وعظ کرتے ہوئے ایک پادری صاحب نے ٹوپی زمین پر رکھی۔کئی ایک نے کہا کہ زمین پر نہ رکھیں ہمیں دے دیں۔اُس نے انکار کیا اور حضرت مفتی صاحب کو ٹوپی تھما دی۔کسی نے کہا کہ ہم پر تو اعتبار نہیں کیا اور اس اجنبی پر کر لیا۔آپ نے فوراً اس کی وجہ یہ بتائی کہ میں ایشیائی ہوں یسوع مسیح بھی ایشیائی تھے۔وہ بھی ہندوستان چلے گئے تھے میں بھی ہندوستان سے آیا ہوں۔یسوع مسیح ہندوستان جا کر فوت