حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 145
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔لیکچر نہایت ہی دلچسپ صاف اور سلیس اردو میں ہے۔۔۔۔مذہبی واقفیت پیدا کرنے والوں اور سچے مذہب کے طلب گاروں کے لئے خضر کامل ہے۔( بدر 28 مارچ 1912ء) اسی طرح ایڈیٹر صاحب اخبار میونسپل گزٹ صدائے ہند لا ہور لکھتے ہیں : یہ وہ لیکچر ہے جو 30 را پریل 1911ء کو مولوی محمد صادق صاحب نے ٹاؤن ہال بنارس میں اہل بنارس کو بطور پیام تو حید سنا یا تھا۔جس میں توحید باری تعالیٰ کو بہت عمدہ پیرا یہ اور مناسب الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔بت پرستی سے پر ہیز کرنے اور خدا کو واحد جان کر اسلام کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے چونکہ لیکچر کے الفاظ نہایت ملائم اور سنجیدہ ہیں اس لیے ہر مذہب و ملت کے فرقہ کے افراد کو اسے ملاحظہ کرنا 66 145 چاہیے۔کیونکہ اس میں سوائے حق بات کے اور کچھ نہیں دکھایا گیا۔“ ( بدر 7 مارچ 1912ء) آپ کا یہ لیکچر تحفہ بنارس کے نام سے شائع ہوا۔واپسی کے سفر میں 2 تا 4 مئی کے جلسہ سالانہ میں مفتی صاحب نے مہاجرین کو کیسا ہونا چاہیئے کے موضوع پر تقریر کی۔پھر شاہ آباد اور شاہجہان پور سے ہوتے ہوئے چند گھنٹے لکھنو میں قیام کیا اور حضرت خلیفہ اسی الاول کے ارشاد پر اپنے اہل وعیال کو ساتھ لے جانے کے لئے 13 مئی کو بھیرہ پہنچے۔واپسی پر کچھ دیر گوجرانوالہ رُک کر 17 مئی 1911 ء کو قادیان تشریف لے آئے۔اس کے بعد 24 جون سے یکم جولائی 1911 ء تک حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ہمراہ صدر انجمن احمدیہ کے واسطے چندہ جمع کرنے کے لیے بٹالہ، امرتسراور کپورتھلہ کا سفرکیا۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے رخصت کرتے ہوئے فرمایا: (خلاصہ بدر 8 جون 1911ء) جمعہ کے خطبہ کا مضمون راستے میں لوگوں کو بتاتے جانا ( بدر 6 جولائی 1911ء) جلسه سالانه قادیان 1911ء پر جلسہ کے آداب پر تقریر کا موقع ملا۔1911ء میں حضرت