حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 140 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 140

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالی عنہ 140 تھا، آپ نے اپنی طرف سے 19اکتوبر 1910ء کو ایک وفد بھجوایا جس میں حضرت مفتی صاحب بھی شامل تھے۔یہ وفد کانپور اور اٹاوہ کی کانفرنسوں میں کامیاب لیکچر دینے کے بعد لکھنو پہنچا جہاں دار العلوم ندوہ کے بانی مولانا شبلی سے بھی ملاقات ہوئی۔مولانا شبلی بڑے اخلاق سے پیش آئے اور دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ مرزا صاحب مرحوم کو نبی مانتے ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب نے جواب دیا: ”ہمارا عقیدہ اس معاملہ میں دیگر مسلمانوں کی طرح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں نہ نیا اور نہ پڑانا۔ہاں مکالمات الہیہ کا سلسلہ برابر جاری ہے اور وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل۔آپ سے فیض حاصل کر کے اس اُمت میں ایسے آدمی ہوتے رہے ہیں۔جن کو الہام الہی سے مشرف کیا گیا اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے چونکہ حضرت مرزا صاحب بھی الہام الہی سے مشرف ہوتے رہے اور الہام کے سلسلہ میں آپ کو خدا تعالیٰ سے بہت سی آئندہ کی خبریں بھی بطور پیشگوئی کے بتلائی جاتی تھیں جو پوری ہوتی رہیں اس واسطے مرزا صاحب ایک پیشگوئی کرنے والے تھے اور اس کو عربی لغت میں نبی کہتے ہیں اور احادیث میں بھی آنے والے مسیح موعود علیہ السلام کا نام نبی رکھا ہے۔اس پر مولوی شبلی صاحب نے فرمایا کہ بے شک لغوی معنوں کے لحاظ سے یہ ہوسکتا ہے۔اور عربی لغت میں اس لفظ کے یہی معنی ہیں لیکن عوام اس مفہوم کو نہ پانے کے سبب گھبراتے ہیں۔اور اعتراض کرتے ہیں۔۔۔۔اس کے بعد جناب شبلی نے فرمایا کہ میں مدت سے ایک نہایت مشکل اور اہم مسئلہ کی فکر میں ہوں اور بالخصوص گزشتہ چھ ماہ سے بہت ہی فکر میں ہوں مگر کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جاوے۔اگر ہم طلباء کوصرف عربی پڑھاتے ہیں تو ان میں سے پرانی سستی اور کمزوری اور کم ہمتی نہیں جاتی جو آج کل کے