حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 139 of 300

حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 139

حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 139 24 جولائی 1910ء کو حضرت خلیفہ اسی الاول کو ایک طبی شہادت کے لئے ملتان تشریف لے جانا پڑا تو حضرت مفتی صاحب کو بھی رفاقت کا شرف بخشا۔سفر کے ارادہ پر حضرت مفتی صاحب نے 23 جولائی کی شام کو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست بھیجی کہ اجازت ہو تو عاجز بھی حضور کے ہمرکاب ملتان جائے۔حضرت نے اس پر اپنے قلم سے رقم فرمایا: شام کو عرض کروں گا۔نورالدین اللہ اللہ! خدا کا ذی شان خلیفہ کس انکسار وفروتنی سے اپنے خدام کو خطاب فرماتا ہے۔( تاریخ احمدیت جلد چہارم ص 341) پھر اجازت ملنے پر مفتی صاحب اور بعض دیگر احباب آپ کے ہم رکاب ہوئے۔چار بجے شام آپ قادیان سے روانہ ہوئے۔جس یکہ پر حضرت مفتی صاحب سوار تھے وہ گھوڑے کی کمزوری کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔جب بٹالہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت (خلیفہ اسیح الاوّل ) اور آپ کے ساتھی بذریعہ ریل گاڑی لاہور تشریف لے جاچکے ہیں۔مجبوراً حضرت مفتی صاحب کو رات بٹالہ ٹھہر نا پڑا۔اگلے دن 25 جولائی کو جب آپ لاہور پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت۔۔۔۔ابھی تک لاہور ہی میں ہیں اور جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کے ہاں کھانے پر تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔یہ سن کر آپ نے الحمد للہ کہا اور اپنے آقا کے حضور تشریف لے گئے۔(حیات نورص 453) مدرسہ الہیات کا نپور اور انجمن حمایت الاسلام کے جلسوں میں شرکت اور مولانا شبلی سے ملاقات اگست 1910ء میں مدرسہ الہیات کانپور اور انجمن ہدایت الاسلام اٹاوہ کے سالانہ جلسے منعقد ہو رہے تھے جن میں احمدی علماء کی شرکت کے لئے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں درخواست پہنچی بلکہ مدرسہ الہیات کی طرف سے خود آپ کو بھی تشریف لانے کی دعوت دی گئی۔آپ کا جانا تو مشکل