حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 136
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 136 کپورتھلہ میں احباب جماعت کے اخلاص اور محبت سے آپ بے حد متاثر ہوئے۔خاص طور پر منشی عبدالمجید خان صاحب انچارج افسر بھی خانہ کے حسن سلوک کا تذکرہ تفصیل سے کیا۔ان کے والد مکرم محمد خان مرحوم کے ذکر میں آپ لکھتے ہیں: ”میاں محمد خان کے ذکر خیر کے بغیر کپورتھلہ کی تاریخ احمدیت مکمل نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔محبت اور دوستی کے حقوق کی ادائیگی میں حضرت امام علی سلام کے ساتھ اخلاص میں خان صاحب اپنے والد مرحوم کے قدم بقدم چلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ان کی مہمان نوازی کا یہ حال ہے جب کوئی مہمان آجاوے اسے حتی الوسع جانے نہیں دیتے اور ہر طرح کی خاطر داری میں کوشاں رہتے ہیں۔خان صاحب کے بھائی بشیر احمد خان صاحب بھی بڑے خلیق اور نیک مزاج جوان ہیں۔۔۔۔۔۔خان صاحب کے بھائی میاں سردار خان کا سینہ حضرت امام علی سلام کی محبت سے پر ہے۔بہت کم وقت ہو گا جو خان صاحب آپ کی یاد میں رطب اللسان نہ ہوں۔۔۔۔۔۔کپورتھلہ کے اکثر دوست احمدیت کے واسطے نمونہ ہیں۔میں نے منشی ظفر احمد صاحب منشی محمد اروڑا ہنی عبدالرحمان صاحب کے گھر دیکھے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان لوگوں کو پختہ یقین ہے اور دلی ایمان ہے کہ یہ صرف چند روزہ گزارے کی جگہ ہے اور لا یموت پر بسر ہورہا ہے دنیا سے کوئی دل بستگی نہیں۔ایسے ایسے عہدوں پر ہو کر جہاں ہزاروں کی آمد ہوسکتی ہے ایک کوڑی تک کے روادار نہیں۔“۔۔( بدر 8 جولائی 1909ء) اس سفر میں مفتی صاحب نے ان سارے علاقوں کی تاریخ مرتب کر دی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے زندہ نشان جمع کر کے ازدیاد ایمان کا سامان بہم پہنچا یا ہے۔غرضیکہ ہر تفصیل جاندار حقائق پر مبنی ہے۔حاجی پورہ میں مکرم منشی حبیب الرحمان صاحب کی بے مثال مہمان نوازی کے لطف اور اُن کے