حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 132
حضرت مفتی محمد صادق علی اللہ تعالیٰ عنہ 132 کے دورے طمانیت قلب کا باعث بنے کیونکہ آپ وہ ہستی تھے جو حضرت اقدس علیہ السلام کے سفر رحلت میں آپ عالی سلام کے قریب تھے 22 تاریخ کو کپورتھلہ کی جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا: ”میرے دوستو !صبر سے کام لو دیکھو تم اس کے عاشق تھے وہ بھی آگے کسی کا عاشق تھا۔تمہارا عشق بہت بڑا تھا مگر اس کے عشق کا درجہ نہایت اعلی تھا۔تم اس کے دیدار کے خواہشمند تھے تو وہ بھی اپنے محبوب کے وصال کا آرزومند تھا اس نے بہت صبر کیا جو اتنے سال تک تمہارے درمیان رہا مگر کب تک! آخر وہ اپنے پیارے کے پاس چلا ہی گیا اور اس کی آخر کلام یہی تھی کہ اے میرے پیارے اللہ۔اے میرے پیارے اللہ اور اس کا آخری فعل اس دنیا میں اپنے پیارے اللہ کے حضور نماز پڑھنا تھا یہ خادم اس آخری وقت کے چھ سات گھنٹہ برابر اس کے قدموں میں حاضر تھا اور اس نظارے کو دیکھ رہا تھا کہ کس طرح وہ دنیا و مافیھا سے لا پرواہ ہو کر اپنے محبوب حقیقی کی طرف چلا گیا۔اس نے دنیا کی کسی چیز کو یاد نہ کیا اور نہ کسی طرف توجہ کی بس اپنے مولا کا دھیان رکھا اور اسی میں فنا ہو گیا وہ نماز پڑھتا تھا اور اسی نماز میں وہ اللہ کے حضور پہنچ گیا ہمارے سامنے نماز کا بہانہ کیا آپ یار کے پاس جا بیٹھا اور ہمیں یتیم چھوڑ گیا۔۔۔حضرت مفتی صاحب نے 27 فروری سے 18 مئی 1909ء تک پونے تین ماہ گورداسپور، امرتسر، جالندھر تین اضلاع اور ایک ریاست کپورتھلہ میں دورے کئے۔160افراد حلقہ بگوش دین ہوئے۔بدر کو 80 نئے خریدار ملے قریباً پچاس تقاریر کا موقع ملا اور آٹھ جگہ نبی مجلسیں قائم کیں۔یہ دورے کئی لحاظ سے بے حد اہم ثابت ہوئے سب سے بڑھ کر حضرت اقدس مسیح موعود عل السلام کے ایک ارشاد کی تعمیل ہوئی۔آپ نے فرمایا تھا: 66 ( بدر 8 را کتوبر 1908ء) اخبار کی اشاعت کے واسطے دورے کرو اس لئے غیر معمولی برکت بھی حاصل ہوئی۔دوسرے ان جماعتوں کے مشاہدہ اور معائنہ سے