حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ — Page 110
حضرت مفتی محمد صادق عنی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔فجو ( فضل النساء) سفید کپڑے پہنے بیٹھی ہے اور اُس کے ساتھ فجا (فضل) بھی ہے لیکن فجی کی ایک انگلی پر خفیف سا زخم ہے جس سے وہ روتا ہے۔نجی نے آکر ایک ستون جیسی دیوار کو صرف ہاتھ ہی لگایا ہے کہ وہاں ایک دروازہ بڑی پھاٹک کی طرح ایسے کھل گیا ہے جیسے ایک پہینچ کے دبانے سے بعض کل دار دروازے کھل جاتے ہیں جب اُس دروازے کے اندر داخل ہوا تو کسی نے کہا کہ یہ دروازہ فضل الرحمن نے کھول دیا ہے۔" خطوط امام بنام غلام ( تذکره ص 425) 110 آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستی خطوط سب سے پہلے جموں میں ملے۔جہاں آپ 1890ء تا1895ء بطور مدرس تعینات تھے مگر یہ خطوط محفوظ نہیں رہ سکے۔اُن دنوں حضرت اقدس علیہ السلام کے فرزند مرزا فضل احمد جموں پولیس میں ملازم تھے۔یہ خطوط زیادہ تر انہیں کے حالات کے استفسار پر تھے۔زمانہ قیام لاہور ( جو 1898ء تا 1900ء ہے ) میں جو خطوط موصول ہوئے تھے اُن کی تعداد 51 ہے۔یہ خطوط حضرت اقدس علیہ السلام کے دست مبارک سے تحریر شدہ تھے جو آپ کی کتاب ذکر حبیب کے صفحہ 338 تا 372 پر طبع شدہ ہیں۔ایک ایک حرف زروجواہر سے قیمتی ہے۔صرف طرز تخاطب میں ہی کتنی عظیم الشان بشارت ہے اس کا اندازہ کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود کا ایک اقتباس دیکھئے۔فرماتے ہیں: رسول کریم صل السلام فرماتے ہیں قیامت کے دن چند قسم کے آدمیوں پر اللہ تعالی کا سایہ ہو گا اور ان آدمیوں میں سے ایک وہ دو شخص ہوں گے جو اللہ تعالی کے لئے آپس میں محبت کرتے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی لئے ان لوگوں کو جو ابتدائی زمانہ میں بیعت کرتے تھے جسی فی اللہ لکھا کرتے تھے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہوتا تھا کہ آپ نے اللہ تعالی کے لئے مجھ سے تعلق پیدا کیا ہے اور قیامت کے روز آپ اللہ تعالی