حضرت مرزا شریف احمد ؓ — Page 20
آپ نے وہی اس کو عنایت فرمایا۔اس سے بڑھ کر بادشاہی اور غریب پروری اور کیا ہوسکتی ہے۔ایک دفعہ ربوہ کی ایک بیوہ عورت کی لڑکی دماغی عارضہ میں مبتلا ہوگئی۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ اسے فوراً ہسپتال میں داخل کروایا جائے۔وہ عورت بہت غریب تھی۔آپ کو اس کی اطلاع ملی آپ نے فوراً اس لڑکی کو اپنے ایک خادم کے ہمراہ اپنے خرچ پر لاہور بھجوادیا اور اس لڑکی کے ہسپتال میں داخلے کا سفارشی خط تحریر فرما کر ہر سہولت مہیا فرمائی۔نیز گاہے گاہے اس کے لواحقین سے اس کی خیریت دریافت فرماتے رہتے تھے۔حضرت میاں صاحب کے خاکسار کے والد محترم خلیفہ صلاح الدین احمد صاحب سے برادرانہ محبت کے تعلقات تھے۔جس کی وجہ سے آپ ہمارے ہاں اکثر تشریف لاتے۔اس طرح خاکسار کو بھی آپ کی صحبت اور قرب کا شرف حاصل رہا۔ہم نے آپ کو باپ سے بھی زیادہ شفیق پایا۔ہمارے دل آپ کی محبت اور احترام سے بھر پور ہیں۔آپ کی یاد ہمارے دلوں سے کبھی جدا نہیں ہو سکتی۔محبت قرآن کریم مکرم خلیفہ صباح الدین صاحب مزید تحریر کرتے ہیں: حضرت میاں صاحب کو قرآن کریم سے بہت محبت تھی۔آپ نے ہم سے بھائیوں کو قرآن کریم پڑھا یا خاص طور پر خاکسار کو آپ کی شاگردی کا شرف 20