حضرت مرزا ناصر احمد — Page 175
۱۶۷ کے لئے آپ کی یہ یشانیوں کو دور کرنے کے لئے اپنے رب رحیم سے قبولیت دعا کا نشان مانگا ہے۔مجھے پورا یقین ہے اور پورا بھروسہ ہے اس ذات پاک پر کہ وہ میری اس التجا کو رد نہیں کرے گا ؟ والفضل ۳ دسمبر ۶۱۹۶۵ ) آپ کے دور خلافت میں ساری جماعت نے قبولیت دعا کے ان گنت مظاہرے دیکھے ان میں سے کچھ تو مختلف مضامین میں ضبط تحریر میں آچکے ہیں لیکن بے شمار ایسے ہیں جو کہ صرف ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ایک روز آپ اپنے کمرے میں اپنے بستر پر تشریف فرما تھے۔فرمایا : دیکھو اللہ تعالٰی کا مجھ پر کتنا فضل ہے ، میں تو اس کا عاجز بندہ ہوں لیکن میں منہ سے نکال دیتا ہوں کہ بیٹا ہوگا اور وہ بیٹا دے دیتا ہے " یہ بات کہتے ہوئے آپ کا لہجہ، آپ کی آوازہ ، آپ کے چہرے کا تاثہ آج بھی نظروں کے سامنے ہے۔انتہائی عاجزانہ رویہ اور اپنے رب کی محبت میں ڈوبا ہوا چہرہ تھا۔چنانچہ بارہا ایسا ہوا کہ آپ نے بچے کے لئے صرف لڑکے کا ہی نام بتایا اور ٹر کا ہی ہوا۔یا پھر بچی کا نام دیا تو بیچی ہی پیدا ہوئی۔یہ واقعات تو بے شمار ہیں۔بہت سے گھروں میں جہاں سال ہا سال سے اولاد نہیں ہو رہی تھی آپ کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے شادی کے کئی کئی سال بعد بچے عطا فرمائے۔افریقہ کی ایک عورت کے ہاں شادی کے ۴۰ سال بعد جبکہ وہ اولاد پیدا کرنے کی عمر