حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 163 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 163

۱۵۵ بند، لئے میری آنکھیں بہ لکھا کہ آپ کمرے کے درواز سے تک آئے ہیں۔آپ کے ساتھ ایک اور شخص ہے ؟ سمانا۔آپ نے درواز سے میں کھڑے ہو کہ مجھے دیکھا اور فرمایا۔سو گئی ہے ! رو تو نہیں چلے گئے۔آپ کی علامت کے دوران ایک روز میں نے جبکہ میں آپ کے قریب تھی نظارہ دیکھا کہ میرے سامنے ایک سفید کاغذ آیا جس پر کسی پروگرام کا شیڈول لکھا ہوا ہے۔میں اس کے درمیان میں سے صرف دو باتیں پڑھ سکی : ڈیڑھ بجے " اور " جنازہ"۔اُس وقت میری طبیعت پر اس نظارے کا بہت اثر ہوا اور میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔آپ باتیں کر رہے تھے میں نے آپ سے اس کا ذکر نہ کیا۔دن جون کو ڈیڑھ بجے دوپہر انتخاب خلافت کا وقت مقرر ہوا اور اس کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بعد نماز عصر آپ کا جنازہ پڑھایا۔گھر سے جب آپ رخصت ہوئے تو میں وہی دعائیں پڑھتی رہی جو سفر کے وقت آپ پڑھا کرتے تھے۔روزمرہ کا معمول اور عادات صبح نماز کے لئے اُٹھتے تو قہوہ پیتے جو کہ رات کو ہی تھرماس میں بنوا کر کمرے میں رکھا ہوتا۔ایسی خاموشی سے اُٹھتے کہ مجھے آپ کے اُٹھنے کا بالکل پتہ نہ چلتا۔صبح کی نمازہ کے بعد آپ کچھ دیر آرام فرماتے اور پھر پور سے 9 بجے صبح ناشتہ