حضرت مرزا ناصر احمد — Page 149
۱۴۱ فرمایا " جماعت مجھ سے بہت پیار کرتی ہے۔" ۳۱ مٹی کو جب اچانک حضور کی طبیعت بہت زیادہ ناساز ہوگئی تو اُس وقت بھی جبکہ کمزوری اور سائنس کی شدید تکلیف کے باعث بات کرنا بھی دشوار تھا۔حضور نے فرمایا " الفضل میں میری صحت کے متعلق ایک مبین شائع کردا دو۔جماعت کو صحیح صورت حال سے آگاہ کر دو۔لیکن اتنا پیار کرنے والی میری جماعت ہے۔" EXAGRATION نہ ہو۔اس وقت انہیں اس بات کی پرواہ نہ مخفی کہ فلاں رشتہ دار کو خبر کرد یا فلاں دوست کو۔بلکہ خیال تھا تو صرف اپنی پیار کرنے والی جماعت کا۔سوچتی ہوں جماعت کو جو بے انتہا پیار حضور سے منھا اور ہے اس کے اظہار کا ایک طریق تو یہ ہے کہ وہ آپ کا ذکر محبت و پیار سے کرتی رہے لیکن وسرا طریق جو کہ اصلی اور حقیقی طریق ہے وہ یہی ہے کہ جماعت ان تمام خواہشات اور امیدوں کو پورا کر سے جو حضور کو اُن سے وابستہ تعمید آخری علالت اور وفات ۲۳ مئی ۱۹۸۲ء کی صبح ہم اسلام آباد روانہ ہوئے حضور کا ارادہ وہاں چند دن قیام فرما کر اپنے بیرونی سفر کی تیاری کرنا تھا جس میں بیت البشارت سپین کا افتتاح بھی شامل تھا، ربوہ سے روانگی سے قبل حضور بہت زیادہ مصروف رہے اور اپنا زیادہ تر وقت دفتری کام میں گزارا۔آپ نے یہ فقرہ مجھ سے کئی بار فرمایا : کہ میں اپنا کام WIND UP کر کے جانا چاہتا ہوں۔