حضرت مرزا ناصر احمد — Page 131
۱۲۵ کو بے توجہی سے دیکھتی رہی لیکن حضور سر نظارے سے یوں لطف اندوز ہور ہے تھے جیسے پہلی بار آئے ہوں۔آخر میں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ کتنی بارمری آچکے ہیں۔غالباً وہ ان گنت دفعہ تشریف لا چکے تھے۔فرمانے لگے پہلی بارشتہ میں آیا تھا۔اور پھر فرمایا کہ جب فرقان فورس کے ساتھ آئے تو ان پہاڑوں اور پانی میں چلتے ہوئے میرے پیروں کے سارے ناخن ٹوٹ گئے تھے۔حضور کی شخصیت میں وقار بھی انتہا کا تھا، خدائی رعب اور جلال بھی تھا۔نفاست بھی بے حساب تھی لیکن طبیعت میں درویشی بھی حد درجہ تھی۔ایک دن اُن کی اچکن پر میں نے ایک چھوٹا سا داغ دیکھا تو عرض کیا کہ اسے ڈرائی کلین کرد نہیں۔فرمانے لگے "چھوڑو۔میں دردیس آدمی ہوں " بچوں کی تربیت بڑے ہی خوبصورت انداز سے کی ہوئی تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حضور ا ور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نور اللہ مرد با کی مشترکہ محنت تھی۔بہر حال شادی کے بعد جب میں یہاں آئی تو میں نے یہ بات خاص طور پر دیکھی کہ بچے بڑوں کا انتہائی ادب کرتے ہیں اور ان میں کہنا مانے کی بہت عادت ہے۔بچوں سے ان باتوں کی امید اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ نہ کیا جائے۔اگر چہ بعض اوقات سختی بھی کرنی پڑتی ہے لیکن اصل طریقہ پیار و محبت ہی ہے۔حضور بچوں کے ساتھ بے انتہا محبت فرماتے تھے۔آخری علالت سے چند روز پہلے بیلا بنت صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب) حضور کی پنڈلیاں دبا رہی تھی۔میں نے کہا آج بیلا ناراض ہے اور اس نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔ناراضگی کی وجہ یہ تھی کہ اس کا آج چینی