حضرت مرزا ناصر احمد

by Other Authors

Page 121 of 181

حضرت مرزا ناصر احمد — Page 121

ہو جائے " اُس دن آپ بہت خوش تھے۔امی کے آنے سے پہلے مجھ سے کہنے لگے امتی کو کونسا ہوس پلاؤ گی ، ناشپاتی کا یا خوبانی کا۔اور پھر جب امتی آئیں تو اُن سے بے حد پیار اور عزت و احترام کے ساتھ ملے۔واپسی پر انہیں باہر تک چھوڑنے گئے۔امتی اُن دنوں کافی بیمار رہ چکی تھیں۔باسر آئے تو ڈرائیور نے موثر ذرا چند قدم کے فاصلے پر کھڑی کی ہوئی تھی یہ آپ خود گیلری سے باہر تشریف لے گئے اور اُسے ہدایت کی بالکل دروازے کے سامنے موٹر لے کر آؤ۔گرمی کا موسم تھا اور امی گھرا رہی تھیں کہ آپ ٹھنڈے کمرے سے ایک دم با سرگرمی میں آگئے ہیں۔جب ہم اسلام آباد گئے تو ایک دن صبح ہم ناشتے کے لئے میز پر ہی تھے کہ میرے بھائی اباز کسی کام سے آئے۔وہ امتی کے ویزے کے سلسلے میں انہیں اسلام آبا دلے کہ آئے تھے حضور کو جب معلوم ہوا کہ امتی نیچے موٹر میں ہیں تو فوراً انہیں نیچے واپس بھیجا کہ حاکمہ امتی کو لے کر آؤ کچھ دیر ہم وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔امتی جب واپس جانے لگیں تو میں بے خیالی میں میز پر ہی بیٹھی رہی حضور نے مجھے اشارے سے اُٹھنے کو کہا اور فرمایا کہ امی کو چھوڑ کر آؤ۔اور آپ خود بھی انہیں سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے۔اور جب تک وہ چلی نہ گئیں آپ وہیں پر کھڑے رہے۔۲۳ مئی کی شام کو ہم دوبارہ اسلام آباد پہنچے۔اگلے دن صبح میری امی نے انگلینڈ جانا تھا۔میں رات کو انہیں ملنے کے لئے پنڈی جانے لگی تو