حضرت مرزا ناصر احمد — Page 120
شروع ہوگئی۔حضور نے اپنی توجہ فوراً ڈاک کی طرف مبذول کر لی اور فرمانے لگے و تم نے مجھے باتوں میں لگا دیا میں تو اس وقت ان کے لئے دعا کیا کرتا ہوں ؟ اور پھر دوبارہ خاموشی سے ڈاک دیکھنے اور دعا فرمانے میں مشغول ہو گئے۔آقا اور غلاموں کے درمیان دو طرح کا تعلق ہوسکتا ہے۔ایک تو وہ ظاہری عزت اور احترام جو کہ ایک غلام اپنے آقا کی کرتا ہے اور دوسرا وہ بیکراں پیار جو غلام کے دل میں اس وقت ٹھاٹھیں مارتا ہے۔جب آقا اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔وہ پیار اتنا بے لوث، انشا پاک اور اتنا سچا ہوتا ہے کہ اُسے دنیا کسی بھی قیمت پر خرید نہیں سکتی۔اور نہ ہی اس پیار کا نعم البدل کہیں اور نظر آتا ہے۔والدین سے حسن و احسان کا جو عملی نمونہ آپ نے مجھے دکھایا جب اس کی یاد آتی ہے تو دل فرط جذبات سے بھر جاتا ہے۔آپ نے مجھ سے فرمایا۔اب میں تمہاری امتی، کہہ کہ بات نہیں کیا کروں گا بلکہ صرف امتی کہا کروں گا کیونکہ اب وہ میری بھی امتی ہیں۔پھر جب ہماری شادی کے بعد امتی پہلی فیہ سماے گھر آئیں تومجھ سے فرمایاکہ امی و اپن بیڈ روم میں لے جاؤ۔امی ہمارے کمرے میں جانے سے گھبرا رہی تھیں اور انکار کیا۔لیکن آپ نے اصرار کے ساتھ ہم دونوں لو اندر بھیجوا دیا۔خود دوسرے کمرے میں میرے بھائیوں کے ساتھ رہے۔بعد میں مجھ سے فرمایا :- ماؤں کو فکر ہوتی ہے کہ بیٹی کہاں اور کیسے رہ رہی ہے اس لئے میں نے امی کو تمہارے ساتھ کمرے میں بھیجوایا تھا تا کہ انہیں اطمینان