حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 24
بیٹھک کے صحن میں سو جایا کرتا تھا۔رات کو سوتے وقت مجھے قطعاً خیال نہیں رہتا تھا کہ آیا میرے پاس پینے کیلئے پانی، وضو کرنے کیلئے پانی ہے یا نہیں؟ جب صبح اٹھتا تو میرے نزدیک میز پر پانی کا جگ، وضو کیلئے پانی کا لوٹا اور تولیہ موجود ہوتا تھا۔بچپن کی بے پروائی کے باعث حسب معمول اٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھ کر چائے کے انتظار میں بیٹھا رہتا تھا اور کبھی یہ خیال نہ آتا تھا کہ پانی کا لوٹا اور تولیہ کہاں سے آجاتا ہے۔ایک دن صبح کی اذان کے وقت نیم خوابیدہ حالت میں چار پائی پر پڑا تھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں صاحب موصوف میری چار پائی کے قریب پانی کا لوٹا اور کرسی پر تولیہ رکھ کر خود مسجد تشریف لے گئے۔اسی طرح روزانہ میرے قیام کے دوران وہ کرتے رہے۔66 (حیات بشیر صفحہ 254) بچوں سے سلوک بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارہ میں بھی آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق کار کی اتباع کرتے تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب رقم طراز ہیں کہ ”ہم بہن بھائیوں سے بھی بہت شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔اولاد کا احترام کرتے تھے اور جب کبھی ہم باہر سے جلسہ وغیرہ اور دوسرے مواقع پر گھر جاتے تھے تو ہر ایک کیلئے بہت اہتمام فرماتے تھے۔خود تسلی کرتے تھے کہ سونے والے کمرہ میں بستر 24