حضرت مرزا بشیر احمد ؓ — Page 8
1910ء میں آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور 1912ء میں یہاں سے ایف۔اے کا امتحان پاس کیا اور پھر اسی سال بی۔اے میں داخلہ لے لیا۔بی۔اے کی تعلیم کے دوران ایک دفعہ کسی طالب علم نے اسلام یا احمدیت کے متعلق کوئی ایسا سوال کیا جس کا آپ فوری طور پر جواب نہ دے سکے۔اس کا آپ کی طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ آپ نے کالج چھوڑ دیا اور یہ فیصلہ کیا کہ جب تک میں قرآن پورے طور پر نہ پڑھ لوں گا کالج نہیں آؤں گا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمایا: کالج تو پھر مل جائے گا مگر زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔ممکن ہے کہ قرآن مجید و حدیث پڑھنے کا اور پھر وہ بھی نورالدین ایسے پاک انسان سے پھر موقع نہ مل سکے۔اس لئے میں نے یہی بہتر جانا۔“ تشحید الا ذہان مارچ 1913 صفحہ 154) 8 نومبر 1913ء کو آپ نے سارا قرآن کریم حضرت مولانا حکیم نور الدین مایہ اصبح الاول سے پڑھ لیا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے آپ کیلئے بہت خليفة دعائیں کیں اور حضرت اماں جان نے اس خوشی میں مٹھائی بانٹی۔مئی 1914ء میں آپ نے بی۔اے کا امتحان دیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کامیاب ہو گئے۔8