حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 14

حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 3

3 له 2 خاندان و نسبت حضرت میر ناصر نواب صاحب کا خاندان دہلی کے تمام شریف خاندانوں میں سے واجب الاحترام اور ممتاز یقین کیا گیا ہے۔حضرت میر صاحب کے والد کا نام ناصرا میر صاحب تھا۔آپ کے دادا کا نام میر ہاشم علی صاحب تھا۔خواجہ میر در د صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی خاندان سے تھے جن کی روحانی برکات اور فیوض کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و دنیا کے لحاظ سے شرف عطا کیا تھا۔پیدائش حضرت میر ناصر نواب صاحب کا خاندان دہلی ہی میں آباد تھا اور آپ کی پیدائش وہیں ہوئی، وہیں پرورش پائی اور کھیل کود کر بڑے ہوئے۔آپ کی زندگی میں اچانک ایک تغیر پیدا ہو گیا کہ آپ کے والد کسی کام سے بنارس تشریف لے گئے اور دوران سفر ہی شاہ آباد آرہ میں ہیضہ سے آپ کا انتقال ہو گیا۔اس طرح آپ دو بہنوں کے ساتھ یتیم رہ گئے۔والد صاحب کی وفات کے بعد زندگی گزارنے کے سامان بظاہر نہ رہے۔آپ کے دادا حیات تھے لیکن ان کی عمر بھی اتنی 80 برس کے قریب تھی اور کوئی جائیداد بھی نہ رکھتے تھے۔جو بھی جائیداد تھی وہ خاندان سے جا چکی تھی۔بہر حال آپ کی پرورش نانا اور ماموں نے اپنے ذمہ لے لی۔آپ دہلی میں ہی قیام پذیر تھے کہ دہلی والوں پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور انگریزی فوج میں بغاوت ہوگئی۔باغی فوجی بھاگ بھاگ کر دہلی آنے لگے۔ہر طرف فساد برپا ہو گیا۔1857 ء کا واقعہ ہے۔انگریزوں نے اپنی فوجی طاقت جمع کر کے دہلی پر حملہ کر دیا اور دہلی کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔جیسے جیسے محاصرہ تنگ ہوتا گیا دہلی کے لوگوں کی بے چینی بڑھتی گئی آخر یہ ہوا کہ باغی فوجی دہلی چھوڑ کر بھاگ گئے اور انگریز فوج دہلی میں داخل ہوگئی۔پھر کیا تھا صد ہا لوگ قتل ہوئے سینکڑوں کو پھانسی دے دی گئی۔شہر کے لوگ ڈر کے مارے بھاگنے لگے ایسے حالات میں آپ بھی اپنے کنبہ کے ساتھ دہلی دروازے سے باہر نکل گئے۔حضرت میر صاحب فرماتے ہیں کہ سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے خاص خاص اور قیمتی اشیاء ساتھ لے جانے کے لئے اٹھارہے تھے میری والدہ نے اللہ انہیں جنت نصیب کرے میرے والد صاحب کا قرآن اٹھا لیا جو کہ میرے پاس نشانی کے طور پر موجود ہے۔الغرض دہلی سے نکلنے کے بعد اس قافلہ نے دہلی سے گیارہ میل دور قطب صاحب میں پہنچ کر وہاں ایک حویلی میں پناہ لی۔ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ ایک رسالہ افسر وہاں آپہنچا۔دروازہ جیسے ہی کھلا اس سے قبل کہ وہ یہ دریافت کرتا کہ تم مخالف کے آدمی ہو یا ہمارے۔اس نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔جو بچ گئے ان کو حویلی سے نکل جانے کا حکم ہوا۔سب لوگ اپنے مردوں کو یوں ہی بے کفن و دفن چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں نکل گئے۔رات اندھیری تھی راستہ دکھائی نہ دیتا تھا۔ساری رات چلنے کے بعد روشنی ہونے پر معلوم ہوا کہ رات بھر وہیں چکر لگاتے رہے ہیں۔دوسرے دن یہ قافلہ درگاہ نظام الدین پہنچا اور وہاں پہنچ کر لوگ اپنے بچھڑنے والوں کو یاد کرتے رہے اور روتے رہے یہاں سب سے بڑی مشکل اب یہ تھی کہ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ باقی نہ رہا تھا۔اسی دوران آپ کے ایک ماموں جو حکمہ نہر میں ڈپٹی کلکٹر تھے اور پانی پت اپنے کنبہ کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔انہیں آپ لوگوں کا حال معلوم ہوا تو چند چھکڑے بھیج کر آپ کو پانی پت بلا لیا۔اس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوئی اور دہلی والوں کا پانی پت والوں نے بہت ساتھ دیا اور مدد کی۔آپ کا خاندان دو سال تک پانی پت میں مقیم رہا۔اس کے بعد لوگوں کو دہلی آنے کی اجازت دے دی گئی اور لوگ اپنے مکانوں میں آنے شروع ہوئے۔اس طرح آپ کا خاندان بھی پھر سے دہلی میں آباد ہو گیا۔