حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ — Page 2
1 پیش لفظ امام الزمان حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے جو رفقاء کی صورت میں عظیم وجود عطا فرمائے ان میں ایک حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی ہیں۔آپ کا مقام اس لحاظ سے بھی بہت بڑھ جاتا ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود کا خسر ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔دن رات خدمات سلسلہ میں مصروف رہنے والے اس وجود کو خدا تعالیٰ نے قلمی اور تقریری ملکہ بھی عطا فر مایا تھا جسے انہوں نے خدمات سلسلہ میں خوب استعمال فرمایا۔خدا تعالیٰ ہمیں بھی آپکے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے۔(آمین) تعارف پیارے بچو! دہلی ہندوستان کا مغلیہ دور میں بھی ایک عرصہ تک دارالحکومت رہا اور آج بھی آزاد ہندوستان کا دارالحکومت ہے۔دہلی اُن معروف ومشہور شہروں میں سے ہے جو تاریخی شواہد کے لحاظ سے کئی مرتبہ اُجڑے اور آباد ہوئے۔جب بھی دہلی دار الحکومت بنتی تو خوب آباد ہو جاتی اور جب حکومت کے کارندے اس شہر کو چھوڑ دیتے تو یہ بھی اپنی شوکت کھو دیتی۔دہلی میں بہت بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں۔جن لوگوں میں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ، حضرت امیر خسر وشامل ہیں۔دہلی کی رونق مغل بادشاہوں میں سے شاہجہان کے زمانہ میں دوبالا ہوئی کہ اُنہوں نے دہلی کی معروف و مشہور عمارت لال قلعہ کے ساتھ ساتھ عالی شان جامع مسجد بھی تعمیر کروائی جو کہ آج بھی دہلی کی شان ہے اور کم از کم سال میں دومرتبہ لال قلعہ کی اس عمارت سے ہندوستان کے وزیراعظم پورے ہندوستان کو مخاطب کرتے ہیں۔یہ تو دہلی کا مختصر تعارف تھا جو پیش کیا گیا لیکن ہمارے نزدیک دہلی اس لحاظ سے خاص مقام رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک خاص شادی کا وعدہ فرمایا تھا۔اور آپ کی شادی اللہ تعالیٰ کے حکم سے دہلی کے ایک معزز خاندان میں ہوئی۔جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبشر اولا د عطا کی جو کہ آج ساری دنیا میں چاند ستاروں کی طرح روشن دکھائی دیتی ہے۔میری مراد حضرت میر ناصر نواب صاحب سے ہے۔اور میں آج آپ کو حضرت میر ناصر نواب صاحب کے بارے میں جو نانا جان“ کے نام سے بھی مشہور تھے۔کچھ بتانا چاہتا ہوں تو غور سے سنو!