حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ

by Other Authors

Page 8 of 16

حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓ — Page 8

12 11 چھڑی تلاش کر کے دینے سے سینکڑوں دفعہ مشرف ہوا۔آپ کی کتابوں میں بیسیوں علاوہ بعض اور کام بھی خلافت ثانیہ میں سلسلہ کے سرانجام دینے کی کوشش کرتا جگہ میرا ذکر ہے۔آپ کے بہت سے نشانوں کا عینی گواہ ہوں اور بہت سے نشانوں کا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود سے جو شرف حاصل ہوئے وہ اس لئے لکھے مورد بھی ہوں۔جن دنوں حضور باہر مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔دونوں ہیں کہ ابتداء ایسی اچھی ہے۔پڑھنے والے دعا کریں کہ انتہا بھی ایسی ہی اچھی ہو۔وقت میں بھی شریک ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے۔ہم عربی میں أَسْقِنِي الْمَاءَ کہہ کر پانی مانگا کرتے تھے۔بچپن میں بیسیوں دفعہ ایسا ہوا کہ حضور نے مغرب وعشاءاند رعورتوں کو جماعت سے پڑھا ئیں اور میں آپ کے دائیں طرف کھڑا ہوتا۔عورتیں پیچھے کھڑی ہوتیں۔غالبا میں پیدائشی احمدی ہوں۔نہایت چھوٹی عمر سے اب تک عروسی بود نوبت ماتمت اگر برنکوئی بود خاتمت“ دو بھائی از غلام باری سیف صفحہ 85 تا 88) حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے نام کی وجہ تسمیہ یہ بنی کہ ایک دفعہ دتی کے حضور کے دعاوی پر ایمان ہے۔آپ کے وصال کے بعد حضرت مولوی نور الدین مشہور اہل حدیث عالم مولوی نذیر حسین صاحب حضرت میر ناصر نواب صاحب سے صاحب کو دل سے۔۔۔سچا خلیفہ تسلیم کیا۔حضرت خلیفہ اول سے بچپن سے نہایت بے لدھیانہ ملنے آئے تو میر صاحب نے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کو جوا بھی چھوٹے تکلفی اور محبت و پیار کا تعلق تھا۔ان کی وفات پر سچے دل سے صاحبزادہ مرزا محمود احمد تھے ان سے ملایا۔مولوی نذیر حسین صاحب نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ صاحب کو خلیفہ ثانی سمجھتا ہوں۔با قاعدہ اور بے قاعدہ مولوی عبد الکریم صاحب، حافظ روشن علی صاحب، مولوی سرور شاہ صاحب، مولوی محمد اسماعیل صاحب اور حضرت خلیفہ اول سے عربی علوم پڑھنے کی کوشش کی۔1910ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔1912ء شعر پڑھا برائے کردن تنبیہ فساق دوبارہ آمد اسماعیل و اسحاق یعنی فاسقوں کو تنبیہ کرنے کیلئے اسماعیل اور اسحاق نے دوبارہ جنم لیا ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب نے بچپن ہی سے نہایت اعلیٰ وجودوں سے فیض میں صدر انجمن احمد یہ قادیان کی ملازمت میں داخل ہوا۔جامعہ احمدیہ کے قیام سے قبل حاصل کیا۔آپکو آپکی عظیم الشان ہمشیرہ حضرت اماں جان نے دودھ پلایا۔اس طرح مدرسہ احمدیہ میں مدرس تھا۔اب جامعہ احمدیہ میں پڑھاتا ہوں۔اس ملازمت کے آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام مبشر اولاد کے نہ