حضرت مولوی شیر علی ؓ — Page 17
روپے دیئے۔اس بات پر کئی سال گزر گئے جب حضرت مولوی صاحب فوت ہوئے تو اس کے کچھ دن بعد آپ کے بڑے صاحبزادے کی طرف سے مجھے خط موصول ہوا کہ ابا جان مجھے وصیت کر گئے ہیں کہ پانچ روپے آپ کو ادا کر دیئے جائیں اس لئے آپ وہ رقم مجھ سے لے لیں۔گو میری طبیعت نہ چاہتی تھی لیکن پھر ان کے اصرار پر میں نے وہ رقم ان سے لے لی۔اس واقعہ کا اب تک میرے دل پر گہرا اثر ہے۔مکرم مولانامحمد شفیع اشرف صاحب بیان کرتے ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ میں نے حضرت مولوی شیر علی صاحب سے انگریزی پڑھانے کی درخواست کی جسے آپ نے بخوشی منظور فرمالیا۔مزید بیان کرتے ہیں : ' آپ ان دنوں دارالانوار کے گیسٹ ہاؤس) میں ترجمۃ القرآن کا کام کرتے تھے میں بھی وہیں چلا جایا کرتا تھا۔ایک روز باہر سے کوئی رسالہ آیا اس کے پتے والے کاغذ پر ایک ٹکٹ ایسا بھی تھا جس پر ڈاک خانہ کی مہر نہیں لگی ہوئی تھی۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ اس ٹکٹ پر مہر نہیں ہے۔آپ اگر چہ اس کاغذ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے تھے لیکن میرے اشارہ کرنے پر آپ 17