حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی ؓ — Page 6
8 ارشاد فرمایا۔یہ گرمی کے موسم کا واقعہ ہے۔چند دن ٹھہر نے کے بعد آپ اور آپ کے ساتھی قادیان سے جانے لگے تو ارادہ کیا کہ رات ہی بٹالہ پہنچ کر صبح کی گاڑی سے روانہ ہوں۔جب حضور علیہ السلام کی خدمت میں اجازت کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے مولوی صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا ” آپ کبھی کبھی ملا کریں اور سب کو شرف مصافحہ بخشتے ہوئے فرمایا ”اچھا خدا حافظ قادیان سے بٹالہ پہنچنے تک پانچ دفعہ سانپ سے سامنا ہوا۔ایک تو مولوی صاحب کے پاؤں کے اوپر بھی چڑھ گیا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودہ ” خدا حافظ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔9966 ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ) کو بھیج کر آپ کو بلوایا اور از راہ شفقت اپنی کتابیں ”مواہب الرحمن “، ” اعجاز احمدی اور نسیم دعوت جو آپ نے خاص پر اپنے لئے جلد کروائی تھیں عنایت فرمائیں اور مطالعہ کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا کہ دیگر کتب کے متعلق بھی کہہ دیتا ہوں وہ بھی آپ کومل جائیں گی۔چنانچہ حضور کے ارشاد پر باقی کتب بھی مولوی صاحب کو مل گئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی برکات آپ کو بار ہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ان بابرکت ایام کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ وہ کیا ہی بابرکت زمانہ تھا کہ نماز کے وقت نمازیوں کے خشوع مخضوع، رقت قلب اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ گڑ گڑانے اور آو ویکا کرنے کا شور ( بیت ) مبارک میں بلند ہوتا تھا۔حضرت اقدس کے زمانہ میں حضور کی معیت میں قادیان میں شاید ہی کوئی نماز پڑھی ہوگی جو رقت قلب اور اشکبار آنکھوں سے ادا نہ کی گئی ہو۔علاوہ اس کے دعا کرنے پر جواب بھی فورا مل جاتا۔خواہ رات کو رؤیا کے ذریعہ یا کشفی طور پر یا بذریعہ الہام کے۔“ (حیات قدسی حصہ سوم صفحہ 97) آپ کی عائلی زندگی شادی شادی کے لئے آپ کو کئی رشتے پیش ہوتے رہے۔لیکن جب آپ استخارہ کرتے تو وہ آپ کو مناسب معلوم نہ ہوتے اور پھر بعد کے واقعات سے بھی ان رشتوں کے نا مناسب ہونے کا علم ہو جاتا۔ایک دفعہ آپ ایک دوست کے ساتھ حافظ آباد گئے۔وہاں حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم کے صاحبزادے مکرم حکیم محمد حیات صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ کے لئے دعا کی درخواست کی جو بہت بیمار تھیں۔آپ نے