حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 97
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 97 اس لئے بیاہ نہ کرنے کے متعلق فرمایا کہ سب ایسی بات کو قبول نہیں کر سکتے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے بچے مذہب کی مردوزن دونوں میں تبلیغ کر کے اُن کی اصلاح کرنی تھی۔اور ہر وقت یہودی اس بات کی ٹوہ میں آپ کے پیچھے لگے رہتے تھے کہ آپ کے اخلاق وکردار کے متعلق کوئی ایسی بات ملے جو اسے اچھالیں۔اور نمونہ بننا آپ کیلئے ایک وقت کی ضرورت بھی تھی۔ایک تو انبیاء مواقع تہمت سے بکلی اپنے آپ کو بچا کر رکھتے ہیں اور کوئی ایسا موقع زندگی میں انکی دشمن کیلئے نہیں آتا کہ وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر نہیں بد نام کرسکیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ آپ کو اس وجہ سے کہ آپ مردوزن میں کھلے عام تبلیغ ومنادی کرتے تھے دوش دیتے تھے جیسے لکھا ہے: پیلاطوس نے ان کے پاس باہر آ کر کہا کہ تم اس آدمی پر کیا الزام لگاتے ہو؟ انہوں نے جواب میں اس سے کہا کہ اگر یہ بدکار نہ ہوتا تو ہم اسے تیرے حوالے نہ کرتے۔( یوحنا باب ۱۸ آیت ۲۹-۳۰) حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے ساتھ عورتیں رہتی تھیں حتی کہ بعض اوقات آپ کو بدچلن عورتوں سے ملنا پڑتا تھا۔لوقا کہتا ہے: ”دیکھو ایک بد چلن عورت جو اس شہر کی تھی سنگ مرمر کے عطردان میں عطر لائی۔اس نے اس کے پاؤں چومے اور اُن پر عطر ڈالا۔۔۔فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگے کہ اگر شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اسے چھوتی ہے وہ کون اور کیسی عورت ہے؟“ پھر لکھا ہے: (لوقا باب ۷ آیت ۳۷ تا ۳۹) تھوڑے عرصہ کے بعد یوں ہوا کہ وہ منادی کرتا اور خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنا تا ہوا شہر شہر گاؤں گاؤں پھرنے لگا اور وہ بارہ اس کے ساتھ تھے اور بعض عورتیں