حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 96
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - قدرت دی گئی ہے کیونکہ بعض خوجے ایسے ہیں جنہوں نے آسمان کی بادشاہی کیلئے اپنے آپ کو خوجہ بنایا جو قبول کر سکتا ہے کرے۔“ 96 96 (متی باب ۱۹ آیت ۱۲:۱۱) اس سے قبل آپ نے فرمایا کہ خدا نے مرد اور اس کی بیوی کو ایک جسم بنایا ہے جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے آپ نے خوامخواہ چھوٹی سی بات پر طلاق دینے سے منع فرمایا ہے اور بیاہ کو پسند فرمایا ہے اور اسے خدا کا جوڑ نا قرار دیا ہے۔لیکن حواری چونکہ تبلیغی سفروں پر نکلتے تھے اس لئے ان کیلئے بیوی کا ساتھ رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔لہذا انہیں رہبانیت کا طریق اختیار کرنا پڑتا تھا۔دیکھا دیکھی عیسائی صوفیا نے یہ طریق منتقلاً اختیار کرلیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَأْفَةٌ وَّرَحْمَةٌ ، وَرَهْبَانِيَّةَ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنَهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَ رِعَايَتِهَا فَاتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوْا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ، وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فسقونه ج (سورة الحديد: آیت (۲۸ ترجمہ: اور ان لوگوں کے دلوں میں جنہوں نے اس کی پیروی کی نرمی اور مہربانی رکھ دی اور ہم نے ان پر رہبانیت فرض نہیں کی تھی جو انہوں نے بدعت بنالی مگر اللہ کی رضا جوئی ( فرض کی تھی ) پس انہوں نے اس کی رعایت کا حق ادا نہ کیا تو ہم نے ان میں سے ان کو جو ایمان لائے اور ( نیک عمل بجالائے ) ان کا اجر دیا جبکہ ایک بڑی تعدادان میں بد کرداروں کی تھی۔حضرت مسیح علیہ السلام کو ان مشکلات کا علم تھا جو بیاہ نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔