حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 86
98 86 حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل اور انجیل میں یوں لکھا ہے: ”میرا فیصلہ سچا ہے کیونکہ میں اکیلا نہیں بلکہ میں ہوں اور باپ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور تمہاری توریت میں بھی لکھا ہے کہ دو آدمیوں کی گواہی مل کر سچی ہوتی ہے۔ایک تو میں خود اپنی گواہی دیتا ہوں اور ایک باپ جس نے مجھے بھیجا میری گواہی دیتا ہے۔“ (یوحنا باب ۸ آیت ۱۶ تا ۱۸) پس یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی کی قبل از بعثت زندگی بھی اس کی سچائی کی دلیل ہوتی ہے لیکن انا جیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبل از بعثت زندگی کے بہت کم حالات ملتے ہیں اور اس سلسلہ میں تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا زیر لفظ جیز ز کرائسٹ (Jesus Christ) لکھتا ہے: "Any attempt to write a life of Jesus should be frankly abandoned, the material for it certainly does not exist۔It has been calculated that the total number of the days in his life regarding which we have any record does not exceed 50۔" کہ مسیح کے حالات زندگی کے متعلق ریکارڈ شدہ حالات ۵۰ دن سے زیادہ نہیں ملتے۔نیز اکثر و بیشتر یہ وہ حالات ہیں جو بعثت کے بعد کے حالات ہیں۔تاہم یہ کہ آپ کی جوانی کیسی گزری تھی اس کی تحقیق اب ہم کرتے ہیں۔