حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 8
پیش لفظ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی حیات وموت کا مسئلہ تمام مذاہب عالم کیلئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ایک طرف یہود آپ کو نعوذ باللہ ملعون اور مردود قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف سے عیسائیوں نے آپ علیہ السلام کے بارے میں اسقدر غلو سے کام لیا کہ آپ کو اپنے منصب حقیقی سے ہٹا کر ابن اللہ اور الوہیت کے مقام پر پہنچا دیا۔حالانکہ مسیح علیہ السلام اور برگزیدہ رسولوں میں سے ایک تھے جو خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے اور شرک کے استیصال کیلئے مبعوث ہوئے تھے۔رفتہ رفتہ ان کے ماننے والے تو حید خالص سے دور ہوتے چلے گئے۔بالآخر تثلیث کے بے بنیاد اور من گھڑت عقائد کو وضع کیا۔موجودہ عیسائیت حضرت مسیح علیہ السلام کی اصل سیرت و کردار، عقائد و نظریات سے کوسوں دور ہے۔اس زمانہ میں عیسائیوں کو ان کے حقیقی اور اصل عقائد کی طرف واپس لانے کیلئے جماعت احمد یہ ساری دنیا میں کوشش کر رہی ہے۔آپ کی پاکیزہ سیرت کے واقعات ، توحید خالص کے قیام اور ترویج کیلئے آپ کی کوششیں منظر عام پر لائی جارہی ہیں تا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ محبت اور عقیدت کا دم بھرنے والے حضرات آپ کی حقیقی سیرت وکردار کے حامل ہو سکیں۔زیر نظر کتاب حضرت مسیح علیہ السلام کے دعوئی (از روئے قرآن و انجیل ) اور آپ کی سیرت و سوانح پر لکھی گئی ہے۔اس میں محترم اقبال نجم صاحب نے قرآن کریم اور بائیبل کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے سیرت نگاری کا حق بخوبی ادا کیا ہے۔یہ کاوش یقیناً جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں گراں قدراضافہ کا باعث ہے۔سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جوعظیم الشان علمی وتحقیقی انکشافات عمل