حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 68 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 68

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 68 رات کو باہر میدان میں گلہ بانی کرتے تھے۔ظاہر ہے کہ یہ موسم گرمی کا تھا۔شدید سردی میں وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔پھر لکھا ہے: اس کا پہلوٹھا بیٹا پیدا ہوا اور اس نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر چرنی میں رکھا۔(لوقا ۷:۲) ظاہر ہے کہ سخت سردی میں بے وقوف سے بے وقوف ماں بھی ایسا نہیں کرتی کہ باہر کھر لی میں اپنے پیارے بچے کو رکھ دے بلکہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو گرم کپڑوں میں لپیٹ کر کسی بند کمرے میں رکھے گی تاکہ لا پرواہی کے نتیجہ میں بچہ کونمونیہ نہ ہو جائے لیکن حضرت مریم کا یہ عمل بتاتا ہے کہ وہ گرمیوں کا موسم تھا اور باہر کھلی جگہ پر آپ کولٹا نا چنداں نقصان دہ نہیں تھا۔اس تاریخی غلطی کے متعلق عیسائی محققین بھی آگاہ ہیں اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری روایات میں یہ غلطی ہوئی ہے۔اور یہ غلطی بعد کی ایجاد ہے۔اور حضرت مسیح علیہ السلام گرمیوں میں ہی پیدا ہوئے تھے نہ کہ سردیوں میں چنانچہ مسیحی کتاب ” اتفاق البشرین“ مطبوعہ بیروت صفحه ۴۸ بحواله رساله الفرقان نومبر ۱۹۴۷ء میں لکھا ہوا ہے: (1) - إِنَّ السَنَةَ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا مُخْلِصُنَا غَيْرُ مَعْلُومَةٍ تَمَامًا۔کہ ہمیں مسیح کا سن ولادت معلوم نہیں پھر کہتے ہیں إِنَّ الْيَومَ الَّذِي وُلِدَ فِيهِ الْمَسِيحُ غَيْرُ مَعْلُوم کہ وہ دن بھی ہمیں معلوم نہیں جب حضرت مسیح پیدا ہوئے تھے۔پھر لکھتے ہیں تیسری اور چوتھی صدی میں مشرقی گرجوں نے 4 جنوری کو یوم ولادت مسیح منانا شروع کر دیا تھا۔لیکن مغربی گرجے چوتھی صدی کے وسط کے بعد سے ۲۵ دسمبر کو یوم ولادت مسیح مناتے ہیں۔(۲)۔پیکیس تفسیر بائیل میں لوقا کی انجیل کے مفتر پرنسپل اے جے گر یوایم اے اے ڈی لوقا کے اس بیان پر کہ حضرت مسیح کی پیدائش جس موسم میں ہوئی تھی اس وقت چروا ہے گلوں کو باہر