حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 67
67 حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔or "Revulet" was Pilots agueduct at Bethlehem۔" (The Muslim World Vol 3 page 189) اب مقام پیدائش کے متعین کر لینے کے بعد تاریخ پیدائش کا متعین کرنا رہ جاتا ہے ایک مشکل یہ ہے کہ عیسائیت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ۲۵ دسمبر کو پیدا ہوئے تھے۔لوقا یہ کہتا ہے کہ اس وقت قیصر نے مردم شماری کروائی تھی۔جس کیلئے یوسف اور مریم ناصرہ سے بیت لحم گئے تھے اور وہاں پر ہی حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش ہو گئی تھی لیکن قرآن کریم بتا تا ہے کہ آپ کی پیدائش سرما میں نہیں ہوئی بلکہ گرما میں ہوئی اور اس موسم میں ہوئی جس موسم میں ملک کنعان میں کھجور میں اتنی پک جاتی ہیں کہ درخت کے ہلانے سے گرنے لگتی ہیں۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کھجور میں فلسطین میں بہت دیر سے پکتی ہیں۔اور یہ ماہ اگست ستمبر کا زمانہ ہوتا ہے۔اور دسمبر کا مہینہ تو علاوہ شدید سردی کے فلسطین میں سخت بارش اور دھند کا مہینہ ہوتا ہے۔فلسطین میں موسم برسات کیکم نومبر سے شروع ہو جاتا ہے اور پہاڑی علاقہ میں تو بالخصوص شدید سردی اور دھند ہوتی ہے۔جان ڈی ڈیوس کی بائیل ڈکشنری میں زیر لفظ year ایک نقشہ دیا گیا ہے جس میں یہودی مہینوں کے نام دیگر ان کے مقابل پر انگریزی ماہ درج کئے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ فلسطین میں کس ماہ میں کونسی فصل اور کونسا پھل پک کر تیار ہو جاتا ہے۔اس نقشہ میں یہودیوں کا چھٹا مہینہ ایلول ( Elul) ہے اور اس کے بالمقابل انگریزی مہینہ انداز ماہ ستمبر لکھا گیا ہے۔اور Season یعنی موسم کے کالم میں یہ وضاحت موجود ہے کہ ماہ ستمبر میں کھجور اور موسم گرما کی انجیر پک کر تیار ہو جاتی ہیں۔ڈکشنری مذکورہ میں یہودی مہینہ کے بالمقابل ستمبر کا مہینہ ایک موٹے اندازے کے مطابق درج کیا گیا ہے دراصل ماہ اگست ستمبر میں یہ مہینہ آتا ہے۔(ملاحظہ کریں پیکس تفسیر بائیل ص ۱۱۷) By Thomas Nelsone & Sons Ltd۔London 1962۔لوقا کے حوالے سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان دنوں میں اس علاقے میں چروا ہے