حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 61 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 61

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل - 61 ہو جائے تو خیال یہ کیا جائے گا کہ گویا مریم اور اس کے خاوند یوسف اللہ تعالیٰ کے اس قدرنشانات اور معجزات کے دیکھنے کے باوجود لوگوں کے اعتراضات سے ڈرتے تھے لیکن سفر بھی آپ نے کیا جس سے انکار بھی ممکن نہیں۔لہذا مردم شماری کو بطور جواز سفر کے بیان کر دیا گیا۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیت الحم میں ٹھہرنے کا عرصہ کتنا تھا؟ اب اگر بچہ کے پیدا ہوتے ہی فوراً بعد اپنے شہر میں واپس آ جاتے ہیں تو اعتراض قائم رہتا ہے کہ مریم کو یوسف کے گھر میں آئے تو ابھی پانچ ماہ ہی ہوئے تھے تو یہ بچہ کہاں سے پیدا ہوگیا ؟ اگر وہ ٹھیک نو ماہ کے بعد بھی واپس آ جاتے اور کہتے یہ بچہ جائز حمل کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔تو بچہ کی شکل سے لوگ پہچان جاتے ہیں که به نوازائدہ بچہ ہے یا اس کی پیدائش پر چار پانچ ماہ گزر چکے ہیں اس بات کو چھپانے کا صرف ایک ہی طریق تھا کہ وہ کئی سال باہر رہتے۔چنانچہ بڑی عمر کا بچہ لے آؤ تو پھر کچھ پتہ نہیں چل سکتا کہ وہ کب پیدا ہوا او حقیقت بھی یہی ہے کہ انہیں کئی سال بیت لحم میں رہنا پڑا جیسا کہ لوقا باب ۲ آیت ۴۱ میں لکھا ہے: اس کے ماں باپ ہر برس عید فتح پر یروشلم کو جایا کرتے تھے۔“ بیت لحم کا علاقہ یروشلم سے ۵۔ے میل جنوب میں واقع ہے چنانچہ بیت تم سے ہر سال یروشلم میں آپ کے ماں باپ کا جانا اتنا مشکل نہیں ہے۔لیکن اگر پیدائش کے بعد متی کے بیان کے مطابق آپ کا مصر میں جانا تسلیم کیا جائے تو ہر سال اتنی دور سے آنا قرین قیاس نہیں ہے کیونکہ اس زمانہ میں وسائل سفر بھی تو اتنے آسان نہیں تھے اور نہ ہی مصر سے ہر سال آنے کے واقعات کا کہیں ذکر ہے۔دوسرے آپ کے مصر کے سفر کا واقعہ سوائے متی کے کسی انجیل نویس نے نہیں لکھا اور جبکہ لوقایہ کہتا ہے کہ: ”اے معز تھیفلس میں نے بھی مناسب جانا کہ سب باتوں کا سلسلہ شروع سے