حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 60 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 60

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 60 معلوم ہوتا ہے کہ Herod ہیروڈ کی وفات کے وقت کونسٹیلیس وار وہی سوریہ کا گورنر تھا لوقا کا بیان کرده Qurinius کو ریس گورنر نہیں تھا بلکہ رومی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے Sentinous گورنر تھا اور پھر Titnis تھا۔اول الذکر و قبل مسیح سے 4 قبل مسیح تک رہا اور ثانی الذکر تاریخ میں، اقبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔(انسائیکلو پیڈیا بلی کا زیر لفظ کرانیکل ) مذکورہ بالا تاریخی حقائق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کی پیدائش کے دس سال قبل سے لیکر ھیرو دیں اوّل کی وفات تک کو رینیس نام کا کوئی گورنر نہیں ہوا۔پس جبکہ دس سال قبل مسیح سے لیکر بعد فات ہیروڈ تک کے گورنروں کے نام ہمیں معلوم ہیں اور ان میں سے کوئی بھی لوقا کا بیان کردہ کورینس نہیں ہے اور جوزیفس کے بیان کے مطابق اس وقت کوئی مردم شماری ہوئی ہی نہ تھی تو ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہیں کہ لوقا کے ذہن میں یا تو تاریخی واقعات خلط ملط ہو گئے ہیں یا مریم اور یوسف نے جس قدرتی جذبہ کے تحت یہ سفر اختیار کیا تھا یعنی یہ کہ یہ پیدائش کسی کی نظر میں نہ آئے اور وہ طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنیں۔اس حقیقت کو چھپانے کیلئے لوقا نے مردم شماری کا بعد کا واقعہ پہلے بیان کر کے ایک جائز وجہ سفر پیش کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اتنے زبردست تاریخی واقعات کو آگے پیچھے کر دینا کوئی ایسی آسان بات نہیں ہے۔اور صحیح یہی ہے کہ قرآن کریم نے آپ کی ولادت کو واقعۂ اصلی اور فطری شکل میں پیش کیا ہے جبکہ انجیل نے اسے جو بہ فہم معجزات کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔اور اسے عیسائی علماء بھی تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکے اور کہا کہ انجیل نویس نے حقائق بیان کرنے میں پہلوتہی کی ہے اور بے سر و پا معجزات اور قصوں کو درمیان میں بیان کر دیا ہے۔(ملاحظہ ہو۔پادری ڈبلیو سچن ایم اے کا رسالہ تحریف انجیل و صحت انجیل ) حضرت مسیح کی والدہ کے دوران حمل سفر کو مردم شماری کے سات سال بعد کے ہونے والے واقعہ کے ساتھ جوڑنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اگر حمل کی وجہ سے مریم کا سفر پر جانا ثابت