حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 56
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 56 اصل واقعہ کو بیان کرنا ضروری سمجھا ہے شاید ایک ظاہر بین نگاہ قرآنی بیان کو بے ترتیب قرار دے کہ یک دم ولادت کے واقعات کے بعد نبوت اور رسالت کی باتیں کی جارہی ہیں۔لیکن جب مسیحیوں میں رائج غلط روایات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات ضروری معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی نبوت ورسالت کے متعلق کچھ بیان کرنے سے قبل آپ کی عبودیت کو ثابت کیا جائے اور نام نہاد الوھیت کی تار پورد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکا جائے اسی لئے قرآن کریم نے آپ کی ولادت کے واقعات تفصیل سے بیان فرمائے ہیں اور پھر آپ کی نبوت کا تذکرہ فرمایا ہے۔دراصل ہوا یوں کہ جب حضرت مریم حاملہ ہوئیں تو خاوند نے اس کو بُرا جانا اور کہا کہ یہ عمل میرا نہیں ہے۔اور ادھر خاوند کو خواب بھی آگئی کہ مریم کو اپنے گھر میں لے آوے۔کیونکہ وہ جو کچھ کہتی ہے ٹھیک کہتی ہے۔مگر جس کو خواب آگئی اُسکی تو تسلی ہوگئی کہ بیوی بدکار نہیں ہے۔لیکن شہر والے تو نہیں مان سکتے جو بھی سنتا وہ کہتا کہ یہ بچہ تو نا جائز ہے اور کوئی خاوند یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی بیوی کو بدکار کہا جائے پس چونکہ لوگوں میں بدنامی کا ڈر تھا اس لئے تین چار مہینے جب تک کہ حمل چھپ سکتا تھا وہ اپنے گھر میں رہے جب دیکھا کہ اب حمل چھپ نہیں سکتا تو ایک دور کے علاقے میں چلے گئے اور وہاں جا کر بچہ پیدا ہوا اور پیدائش کے وقت وہ ایک ایسے علاقے میں تھے جو کھجوروں کا علاقہ تھا اور شہر سے باہر تھا اور وہاں ہی انہیں قیام کرنا پڑا۔کیونکہ وہ لوگوں کے سوال و جواب سے بچنے کیلئے غیر آباد علاقہ میں قیام کرنا پسند کرتے تھے۔اسی لئے قرآن کریم نے حضرت مریم کے خاموشی کا روزہ رکھنے کے متعلق بھی ذکر کیا ہے لیکن لوقا نے اس اعتراض سے بچنے کیلئے کہ مریم اور اس کا خاوند یوسف اللہ تعالیٰ کے اس قدر نشانات اور معجزات دیکھنے کے باوجود لوگوں کے اعتراضات سے ڈرتے تھے۔اور لوقا اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتا کہ مریم اور یوسف کو سفر کرنا پڑا جس کے لئے یہ جواز پیدا کیا ہے کہ ولادت کو چھپانے کی غرض سے نہیں بلکه مردم شماری میں نام لکھانے کی غرض سے سفر پر گئے تھے۔اور ساتھ ہی اپنی عادت سے مجبور