حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 55 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 55

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل ہے: 55 چنانچہ جب یوسف نجار آپ دونوں کو مصر میں لے گئے تو تیسرے دن مریم نے ایک کھجور کا درخت دیکھا۔اس کے نیچے آرام کیا اور جب وہ وہاں بیٹھ گئی تو درخت پر پچھل دیکھ کر یوسف نے جواب دیا کہ مجھے تعجب ہے کہ تو ایسا کہتی ہے کیونکہ درخت بہت اونچا ہے۔میں تو پانی کی فکر میں ہوں اسلئے کہ ہمارے پاس پانی بہت کم بچا ہے۔پھر یسوع نے جو مریم کی گود میں تھا چہرے سے خوشی ظاہر کی اور کھجور کے درخت کو حکم دیا کہ اپنے پھل اس کی ماں کو دے دے پس درخت مریم کے پاؤں تک جھک گیا اور اس نے اس سے اتنا توڑ ا جتنا اس نے چاہا۔اس کے بعد یسوع نے درخت کو سیدھا ہو جانے کا حکم دیا اور یہ بھی فرمایا کہ جو پانی اس کی جڑ میں چھپا ہوا ہے ان کو کچھ اس میں سے دے دے چنانچہ ایک چشمہ بہ نکلا اور سب نے خوش ہو کر اس میں سے پیا۔دوسرے دن جب انہوں نے اس جگہ کو چھوڑا تو مسیح نے کھجور سے کہا کہ میں تجھے یہ انعام دیتا ہوں کہ تیری شاخوں میں سے ایک شاخ میرے فرشتوں کے ذریعہ میرے باپ کی فردوس میں لے جا کر لگائی جائے گی۔چنانچہ ایک فرشتہ اترا اور اس درخت کی ایک شاخ لیکر اڑ گیا‘۔عیسائی علماء تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بے سروپا معجزات پر مبنی قدیم روایات ہیں اور ایسی روایات عیسائیوں میں خصوصاً عوام الناس میں قدیم زمانہ سے چلتی چلی آرہی ہیں۔(ملاحظہ فرماویں رسالہ تحریف بائیبل و صحت بائیبل شائع کردہ ریجیس سوسائٹی پنجاب از ڈبلیو میچن ایم اے) مذکورہ بالا روایت میں اس حقیقت کی جھلک ہمیں ضرور ملتی ہے کہ مسیح کی ولادت کے ساتھ کسی ایسے واقعہ کا ضرور تعلق ہے جس واقعہ میں کھجور کے درخت کو خاص اہمیت حاصل ہے اس قسم کی روایات چونکہ عیسائیوں میں بے سروپا معجزات کے ساتھ رائج تھیں اس لئے قرآن کریم نے