حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 49
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 49 اپنے ساتھ ملایا اور حملہ آور ہو کر ارد گرد کے دیہات پر قابض ہو گیا پھر اس کا میابی سے اس کا حوصلہ بڑھا اور اس نے قدم اور آگے بڑھایا۔پھر وہاں بھی کامیابی ہوئی تو وہ اور آگے بڑھا۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ چین کا بادشاہ بن گیا اور اس واقعہ نے ثابت کر دیا کہ جو کچھ اس عورت نے کہا تھا وہ درست تھا اور اسے خدا نے ہی خبر دی تھی۔" (ب) اسی طرح چنگیز خاں جو ترکوں کی دوسری نسل کا سردار تھا اس کے متعلق بھی ایسا واقعہ لکھا ہے کہ: ” جب چنگیز خاں کا باپ فوت ہو گیا اور اس کی ماں بیوہ ہوگئی تو ملک کے رواج کے مطابق اس کی ماں ہی کو بادشاہ تسلیم کیا گیا۔ایک دن اس کی ماں نے درباریوں کو بلایا اور کہا کہ مجھے حمل ہو گیا ہے۔درباریوں نے شور مچادیا کہ ہم تو تجھے قتل کر دیں گے اس نے اس پر کہا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔میں نے رویاء میں دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نور آیا ہے اور وہ میرے آر پار ہو گیا ہے اس کے ساتھ ہی مجھے بتایا گیا ہے کہ تیرے ہاں ایک لڑکا ہوگا جو دنیا کا بادشاہ ہوگا۔چنانچہ میں جب بیدار ہوئی تو مجھے حمل ہو چکا تھا۔انہوں نے یہ سن کر صبر کر لیا اور فیصلہ کر لیا کہ ہمیں اس خبر کے پورا ہونے کا انتظار کرنا چاہئے چنانچہ اس حمل سے چنگیز خاں پیدا ہوا جس کے ذریعہ سے ساری دنیا میں بڑی تباہی آئی اور وہ اس وقت کی معروف دنیا کا بادشاہ بن گیا۔“ اس طرح ڈاکٹر Helem Suprway یونیورسٹی کالج لنڈن کی یہ تھیوری ہے کہ پیدائش کیلئے ہمیشہ ضروری نہیں کہ نر کی ضرورت ہو۔چنانچہ Lancetالنڈن کی ایک ہفتہ وار میگزین کی ایک اشاعت میں اس کے تجربات شائع ہوئے ہیں۔Sunday Pictorial لنڈن ۴/ نومبر ۱۹۵۵ء کی اشاعت میں اس تھیوری کے متعلق شائع شدہ ایک مضمون کے جواب میں ایک ہفتہ بعد ہی یعنی ۱۳/ نومبر کو شائع ہونے والے رسالہ میں تین ایسی عورتوں کی شہادتیں شائع ہوئی ہیں اس