حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 40 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 40

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 40 اپنی بینائی کی واپسی کیلئے التجا کی ( باب ۱۰ : آیت ۴۷) چنانچہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام بھی اس بات کو خوب سمجھتے تھے کہ یہودیوں کیلئے آنے والے مسیح کا داؤد کی نسل میں سے ہونا لازمی قرار دیا جاتا ہے۔چنانچہ آپ نے اس بات کا ازالہ کرنا ضروری سمجھا جیسا که مرقس باب ۱۲ : آیت ۳۵ تا ۳۷ میں لکھا ہے : و پھر یسوع نے ہیکل میں تعلیم دیتے وقت یہ کہا کہ فقیہ کیونکر کہتے ہیں کہ مسیح داؤد کا بیٹا ہے؟ داؤد نے خود روح القدس کی ہدایت سے کہا خداوند نے میرے خداوند سے کہا میری داھنی طرف بیٹھ۔جب تک میں تیرے دشمن کو تیرے پاؤں کے نیچے نہ کر دوں داؤد تو آپ اسے خداوند کہتا ہے۔پھر وہ اس کا بیٹا کہاں سے ٹھہرا۔“ ہوا ہے۔یہ واقعہ منی میں باب ۲۲: آیت ۴۴ تا ۴۵ اور لوقا میں باب ۲۰: آیت ۴۱ تا ۴۴ میں بھی بیان ان حوالوں سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام یہودیوں کے اس خیال کو رد فرماتے تھے کہ یہ سمجھا جائے کہ مسیح موعود لازمی طور پر داؤد کی نسل سے ہوگا اور ابن داؤد کہلائے گا۔آپکی دلیل یہ ہے کہ جب داؤد نے آنے والے مسیح موعود کو اپنا بیٹا نہیں کہا بلکہ اپنا آقا او خداوند کہا ہے تو پھر ابن داؤد کیسے ہو سکتا ہے۔مرقس کے اس مقام کی شرح کرتے ہوئے پیکس تفسیر بائیل میں زیر عنوان ” کیا مسیح ابن داؤد ہے“ لکھا ہے۔”اب یسوع اپنے سامعین سے ایک سوال پوچھتے ہیں اس سوال کی غرض و غائیت کیا ہے؟ اسکی تعین تو آسان بات نہیں۔لیکن بظاہر یسوع یہ سمجھتے تھے کہ مسیح موعود کی صداقت کیلئے داؤد کی نسل سے ہونا کوئی لازمی امر نہیں۔کیونکہ یسوع کے نزدیک آنے والے مسیح کا مقام نسل داؤد کی برتری سے بالا تر تھا۔مرقس کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو یسوع یہ سمجھتے تھے کہ وہ داؤد کے خاندان میں سے نہیں یا وہ اس تعلق کو بہت کم