حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 33 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 33

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل 33 33 میں وہ بات بیان فرما دی ہے جس پر ان میں جھگڑا تھا۔آپ فرماتے ہیں: یعنی اے ہارون کی بہن تیرا باپ تو برا آدمی نہیں تھا۔اور تیری ماں بھی بد کا رنہیں تھی۔پھر یہ کیا اندھیر ہوگیا۔میرے نزدیک اس کے ایک معنی اور بھی ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت مریم کو ہارون کی بہن طنز کے طور پر کہا تھا۔بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی ایک سوتیلی بہن تھی۔جو ہارون کی سگی تھی یا بعض مورخوں کے نزدیک وہ حضرت موسیٰ کی سوتیلی بہن نہیں بلکہ سالی تھی۔اور اس کا نام بھی مریم تھا۔(گنتی باب ۱۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مریم نے جو ہارون کی سگی تھی اور حضرت موسیٰ کی سوتیلی تھی اور بعض کے نزدیک حضرت موسیٰ کی سالی تھی۔بہر حال ہارون سے اس کا زیادہ رشتہ تھا اور موسیٰ سے کم۔ہارون کے ساتھ مل کر ایک کوشی عورت سے شادی کرنے کی وجہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کئے تھے۔قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ یہ اعتراض اس حد تک تھے کہ گویا ناجائز تعلق قائم کیا گیا ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يْأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اذَوْا مُوسَى فَبَرَّاهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُواء (سورة الاحزاب : آیت (۷۰) یعنی اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح نہ بنو جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی۔پھر خدا نے اس کی بریت کی۔معلوم ہوتا ہے کہ یا تو انکو یہ اعتراض تھا کہ ایک بدکار عورت سے موسیٰ نے شادی کر لی ہے اور یا یہ تھا کہ کسی شادی شدہ عورت سے شادی کر لی ہے۔بہر حال پتہ لگتا ہے کہ ان پر نا جائز رشتہ کا الزام لگا تھا۔اور بائیبل میں لکھا ہے کہ اس جرم کی سزا میں مریم کو کوڑھی کر دیا گیا تھا۔مگر چونکہ بائیل ایک طرف یہ بتاتی ہے کہ ہارون اور مریم دونوں نے اعتراض کیا اور دوسری طرف بائیبل سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ