حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 215
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل 215 ادھیڑ عمر کی تصویر ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی بڑھاپے کی تصاویر کہاں سے آئی اور چرچ نے کیوں انہیں محفوظ رکھا ہوا ہے۔نیز ان میں سے ایک وہ بھی ہے جو آپ کے کفن مسیح سے حاصل کی گئی ہے۔یہ بھی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ آپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے تھے۔☆ کتاب Jesus in Rome را برٹ گریوز اور جوشوا پوڈرو نے اپنی کتاب میں تاریخی اور سائنسی شواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر وفات نہیں پائی۔آپ کا اپنے مادی جسم کے ساتھ آسمان پر جانا ثابت نہیں اور نہ ہی طبیعی لحاظ سے ممکن ہے یہ مصنفین لکھتے ہیں: اس امر پر کلیسیا کا اتفاق معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال کہ مسیح علیہ السلام کو ہ زیتون کے نزدیک حواریوں سے مادی جسم میں رخصت ہو کر کہاں گئے تھے۔صرف ایمان کے ذریعے سے ہی حل ہو سکتا ہے مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کا عقیدہ جو ہری طبیعات Nuclear Physics کے پیچیدہ نتائج کے متناقض ہے۔حضرت مسیح کے گوشت اور خون والے جسم کیلئے جو کائنات میں مشینی امداد کے بغیر پرواز کرنا ناممکن تھا یا ان کے جسم کے فوری طور پر Dematerialize ہو جانے کے نتیجہ میں ایسی جوہری طاقت پیدا ہوتی جو سارے یروشلم اور فلسطین کو تباہ کر کے رکھ دیتی اور تاریخ میں یہ حادثہ کبھی واقعہ نہیں ہوا۔“ (4 Jesus in Rome page رابرٹ گریوز اور پیشو عاپوڈ رو مطبوعہ۔Cassel & Co (1957 انجیل مرقس کا آخری ورق دنیائے عیسائیت نے انجیل کے آخری ابواب پر اس عقیدہ کی بنیاد رکھی ہے۔لیکن طویل تحقیقات کے بعد علماء بائیبل نے 1946 ء میں Revised Standard Version میں