حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 151
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوئی از روئے قرآن و انجیل - کرتے ہیں۔وہ دونوں ہمارے مومن بندے تھے۔سَلَمٌ عَلَى إِلْ يَاسِيْنَ ٥ إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ o إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ (سورة الصفت آیت: ۱۳۱ تا ۱۳۳) ترجمہ: الیاسین پر ہمیشہ ہمیش سلامتی ہوتی رہے۔ہم اسی طرح محسنوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔وہ ( یعنی پہلا الیاس ) ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ (سورة الصفت: آیت ۱۴۰) ترجمہ: اور یونس بھی یقینا رسولوں میں سے تھے۔سُبْحَنَ اللهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ٥ إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِيْنَ۔151 (سورة الصفت آیت ۱۶۰ تا ۱۶۱) ترجمہ: اللہ ان کی بیان کردہ باتوں سے پاک ہے ( یعنی فرشتے بیٹیاں نہیں بلکہ عبادت گزار بندے ہیں ) حضرت الیاس علیہ السلام، حضرت الیاسین علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت یونس علیہ السلام اور دیگر انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے: سن رکھو کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ اللہ نے بیٹا قرار دے لیا ہے اور ہم پھر کہتے ہیں) کہ وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔۔پاک ہے وہ اللہ ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں جو اس کیلئے خالص کئے گئے ہیں۔پس ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے پیارے بندوں کیلئے ”عبد“ کا لقب استعمال فرماتا ہے مندرجہ ذیل مثالیں دیکھیں: جبکہ بائیل کے محاورہ میں ابن“ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے پیاروں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔