حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 125
حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل علیہ السلام سے اچھی طرح متعارف تھے۔جیسا کہ لکھا ہے: وو دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خدا کا برہ ہے دوسرے دن پھر یوحنا اور اس کے دو ساتھی کھڑے تھے۔اس نے یسوع پر جو جارہا تھا نگاہ کر کے کہا۔دیکھو یہ خدا کا برہ ہے۔وہ دونوں شاگر اس کو یہ کہتے سن کر یسوع کے پیچھے ہو لئے یسوع نے پھر کر انہیں پیچھے آتے دیکھ کر ان سے کہا۔تم کیا ڈھونڈتے ہو؟ انہوں نے اس سے کہا اے ربی ( یعنی استاد ) تو کہاں رہتا ہے؟ اس نے ان سے کہا چلو دیکھ لو گے۔پس انہوں نے آکر اس کے رہنے کی جگہ دیکھی۔اور اس روز اس کے ساتھ رہے۔ایک شمعون پطرس کا بھائی اندریاس تھا۔اس نے اپنے سگے بھائی شمعون سے ملکر کہا ہم کو خرسنس یعنی مسیح مل گیا۔“ ( یوحنا باب ۱ آیات ۲۹ تا ۴۱) 125 پس یحی علیہ السلام کے شاگردوں کا پہلے ہی آپ سے تعارف تھا چنانچہ آپ کے اعلان ماموریت کے بعد حضرت یحییٰ علیہ السلام کے شاگرد ہی سب سے پہلے آپ کے حلقہ بگوش ہوئے جیسا کہ لکھا ہے: اور اس نے گلیل کی جھیل کے کنارے پھرتے ہوئے دو بھائی یعنی شمعون جو پطرس کہلاتا ہے اور اس کے سگے بھائی اندریاس کو جھیل میں جال ڈالتے دیکھا کیونکہ وہ ماہی گیر تھے اور ان سے کہا میرے پیچھے چلے آؤ میں تم کو آدم گیر بناؤں گا وہ فوراً جال چھوڑ کر اس کے پیچھے ہو لئے اور وہاں سے آگے بڑھ کر اس نے اور دو بھائیوں یعنی زبدی کے بیٹے یعقوب اور اس کے بھائی یوحنا کو دیکھا کہ اپنے باپ زبدی کے ساتھ کشتی پر اپنے جالوں کی مرمت کر رہے ہیں ان کو بلا یا وہ فورا کشتی اور اپنے باپ کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہولئے۔“ ( متی باب ۴ آیت ۱۸ تا ۲۲- مرقس باب ا آیت ۱۶ تا ۲۰)