حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل

by Other Authors

Page 124 of 269

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعویٰ از روئے قرآن و انجیل — Page 124

حضرت مسیح علیہ السلام کا دعوی از روئے قرآن و انجیل۔124 شیطان نے اپنے آپ کو سجدہ کرنے کو کہا اور بدلہ میں دنیا کی سلطنتوں اور بادشاہتوں کا وعدہ کیا۔آپ کا جواب ایک فطرتی جواب تھا اور تورات کی تعلیم کے مطابق تھا نیز ظاہر کیا کہ یہ دنیا جیفہ مردار ہے اور ان کی کوئی حقیقت نہیں اصل تو آسمانی بادشاہت ہے۔( تفصیل کیلئے دیکھیں مرقس باب ایک آیات ۱۲ تا ۲۰ نیز منتی باب ۴ آیات ۱ تا ۱۱ ) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کئے گئے ایک مکالمہ مخاطبہ الہیہ کا بھی ذکر فرمایا۔فرماتا ہے: وَمَا تِلْكَ بِيَمِيْنِكَ يَمُوْسَى هِ قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّوا عَلَيْهَا وَاهُشُ بِهَا عَلَى غَنَمِي وَلِيَ فِيْهَا مَارِبُ أُخْرَى (سورة طه آیات ۱۸ تا ۱۹) اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دنیاوی سہاروں پر تکیہ نہ کرنے اور اللہ کے اذن کے بغیر کسی سہارے کو اہمیت دینے سے منع فرمایا ہے کیونکہ وہ سہارا جس میں اللہ تعالیٰ کا اذن نہ ہو سانپ کی طرح نقصان دہ ہو جاتا ہے اور اگر اذنِ الہی شامل حال ہو جائے تو سانپ جیسے نقصان دہ امور بھی نفع رساں ہو جاتے ہیں۔فنافی اللہ کے مقام کو حاصل کرنا اور تو کل علی اللہ کا یہ سبق تمام انبیاء اور اہل اللہ کو دیا جاتا ہے اور یہی سبق ان کی کامیابی کی دلیل ہوتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس چلہ کشی کی کا میابی کا دارو مدار حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت اور آپ کی تعلیم پر تھا۔جسے آپ اپنا نصب العین سمجھتے تھے اور ہر موقع پر اسی سے اپنے لئے راہنمائی تلاش فرماتے تھے۔اس چلہ کشی کے بعد آپ نے حضرت یحی' علیہ السلام کے پکڑوائے جانے کے بعد کھلی تبلیغ شروع فرمائی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے ابتدائی حواری حضرت یحییٰ علیہ السلام پر اس بات کا انکشاف ہو چکا تھا کہ آپ مقام مسیحیت پر فائز ہیں اور انہوں نے اپنے شاگردوں کو بھی یہ بات بتائی تھی۔اس وجہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام آپ