حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 3
3 Towers کے ہزاروں معصوموں کی دردناک ہلاکت پر خون کے آنسورور ہے تھے۔چند ناعاقبت اندیشوں نے اس پر خوشی سے رقص کیا۔طبلے بجائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔مغربی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو اسی تاک میں تھا۔یہ مناظر بار بار دنیا کو دکھا کر باور کروایا گیا کہ یہ ہیں مسلمان۔جن کے دل میں انسانیت کے لئے شمہ برابر بھی جگہ نہیں۔یہ انسان نہیں۔یہ ننگ انسانیت ہیں۔چنانچہ ان چند درجن یا چند سونا عاقبت اندیشوں نے ساری دنیا میں مسلمانوں کو ذلیل اور خوار کیا۔تیسرا رد عمل یہ ہوا کہ مغرب میں انصاف پسند طبقہ کی توجہ اس طرف ہوئی کہ یہ جو بلا تحقیق یک طرفہ سارا الزام مسلمانوں کے پلڑے میں ڈال دیا گیا ہے۔ذرہ دیکھیں تو سہی کہ قرآن کریم اور اسلام اس بارہ میں کیا کہتے ہیں۔چنانچہ ساری مغربی مارکیٹ سے دیکھتے دیکھتے قرآن کریم کے لاکھوں نسخے فروخت ہو گئے۔جماعت احمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کے لئے نئی راہیں کھول دیں۔یوں سارا جہاں احمدیت کے لئے میدان تبلیغ بن گیا۔کیونکہ کل عالم میں صرف ہم ہی تھے جو جہاد کے مسئلے پر اپنے موقف اور مسلک پر قائم رہ سکتے تھے۔ہمیں کسی خوفناک رد عمل کو دیکھتے ہوئے کسی سے سمجھوتہ کرنے یاCompromise کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔ایک چوتھا اور انوکھا رد عمل تمام مشرقی اسلامی دنیا میں ظاہر ہوا۔مغرب کی خون آشام نگاہیں دیکھ کر۔مغرب کے بدلتے ہوئے تیور دیکھ کر وہ قوم جو جہاد جہاد کے نعرے لگایا کرتی تھی۔وہ علماء جو دار الحرب دارالحرب کا پر چار کیا کرتے تھے۔اور وہ