حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوبِ جہاد — Page 2
2 کی دعا میں مصروف تھے اور غار ثور میں بھی یہی جہاد جاری تھا اور یہ جہاد راتوں کے اس لمبے قیام کے دوران بھی جاری تھا جب کہ روایات کے مطابق لمبے قیام کی وجہ سے آپ کے پاؤں متورم ہو کے پھٹ جایا کرتے تھے اور یہ جہاد اس وقت اپنی انتہا اور اپنے انجام کو پہنچا جب آپ ہر آنکھ کو اشک بار چھوڑ کے في الرفيق الأعلى في الرفيق الأعلى کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔بعض وقتی لیکن اہم واقعات قوموں کی سوچ کے دھارے تبدیل کر دیتے ہیں۔چنانچہ فی زمانہ۔خودسوزی خود کش حملوں۔نیو یارک ٹریڈ سنٹر یعنی Twin Towers پہ ہوائی جہازوں سے حملوں نیز دنیا بھر میں مسلمانوں کے Suicidal attacks کی وجہ سے کل عالم میں توجہ اسلامی جہاد۔جہادی علماء اور terrorism کی طرف ہوگئی۔اس تشدد کے چار قسم کے رد عمل ظاہر ہوئے۔پہلا یہ کہ تمام مغربی ذرائع ابلاغ نے بغیر کسی تحقیق کے ان حملوں کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی۔چنانچہ اولاً افغانستان کی تباہی اور پھر عراق پر ہولناک یلغار اسی رد عمل کا نتیجہ تھا۔مغرب کی نظر میں اگر کوئی terrorist تھا تو یہی مسلمان تھے۔اگر کوئی fundamentalist تھا تو یہی مقہور مسلمان تھے اور اگر کوئی extremist ہو سکتا تھا تو یہی مسلمان تھے جنہوں نے نیو یارک میں ہزاروں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی۔دوسرا رد عمل یہ ظاہر ہوا کہ جہاں کروڑوں مسلمان۔نیو یارک Twin